لاہور میں جمعہ 23 اکتوبر کو فضائی آلودگی کی شدت خطرناک سطح تک پہنچ گئی اور شہر عالمی فضائی آلودگی کی درجہ بندی میں سرفہرست رہا۔ صبح کے اوقات میں شہر کے مختلف حصوں پر سموگ کی موٹی تہہ دیکھی گئی، جبکہ فضائی معیار کے اشاریوں نے صحت کے لیے انتہائی مضر صورتحال کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دمہ یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو غیر ضروری بیرونی سرگرمی محدود کرنے کا مشورہ دیا۔
Dawn کی رپورٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دن کے مختلف اوقات میں خطرناک درجے میں ریکارڈ ہوا۔ فضائی معیار ایک ہی شہر کے اندر مقام اور وقت کے لحاظ سے بدل سکتا ہے، اس لیے مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اعداد میں فرق ممکن ہے۔ تاہم مجموعی رجحان واضح طور پر شدید آلودگی کی طرف تھا اور لاہور عالمی شہروں کی فہرست میں بدترین فضائی معیار والے بڑے شہری مراکز میں شامل رہا۔
پنجاب میں اکتوبر سے سردیوں کے آغاز تک سموگ کا مسئلہ عموماً شدت اختیار کرتا ہے۔ کم ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی، گاڑیوں اور صنعتوں کا دھواں، تعمیراتی گرد اور زرعی باقیات جلانے سمیت کئی عوامل فضا میں باریک ذرات کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ موسمی حالات آلودگی کو زمین کے قریب روک دیں تو چند گھنٹوں میں فضائی معیار تیزی سے خراب ہو سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق انتہائی آلودہ فضا میں طویل وقت گزارنے سے آنکھوں اور گلے میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور پہلے سے موجود قلبی یا تنفسی بیماریوں کی علامات بڑھ سکتی ہیں۔ شہریوں کو باہر نکلنے کی صورت میں مناسب ماسک استعمال کرنے، سخت جسمانی سرگرمی کم کرنے اور گھر کے اندر ہوا کے معیار کو بہتر رکھنے کے اقدامات کی ہدایت کی جاتی ہے۔
صوبائی حکومت نے حالیہ برسوں میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، صنعتی اخراج اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ سموگ ایکشن پلان نافذ کیے ہیں۔ اس کے باوجود مسئلے کی نوعیت بین الاضلاعی اور سرحد پار فضائی بہاؤ سمیت متعدد عوامل سے جڑی ہے، جس کے باعث مستقل بہتری کے لیے اخراج میں طویل مدتی کمی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
23 اکتوبر کی صورتحال فوری صحت کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن عالمی درجہ بندی اور AQI کی قدر وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ شہریوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری اور معتبر فضائی مانیٹرنگ اپ ڈیٹس دیکھتے رہیں اور خطرناک سطح برقرار رہنے کی صورت میں حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

