اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (PCCA) کی کارکردگی اور ملک میں بڑھتے ہوئے پلاسٹک کچرے کے مسئلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوئی اور ایک مجوزہ ترمیم کے ذریعے اسے وزارت کے لیے تھنک ٹینک نوعیت کا ادارہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں PET بوتلوں، پلاسٹک مصنوعات کی ری سائیکلنگ، قابلِ ری سائیکل مواد کی شناخت اور پابندیوں کے نفاذ میں درپیش عملی مشکلات پر بھی بحث ہوئی۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ کسی پلاسٹک پروڈکٹ پر پابندی یا سخت ضابطہ نافذ کرنے سے پہلے کاروبار اور صارفین کے لیے قابل عمل متبادل موجود ہونا چاہیے، ورنہ قواعد کا نفاذ کمزور رہ سکتا ہے۔

PCCA کے چیئرمین نے اتھارٹی کے جاری منصوبوں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے کے لیے بنائے گئے گروپس کے بارے میں بریفنگ دی۔ تاہم کمیٹی میں پیش کردہ مواد پر عدم اطمینان بھی سامنے آیا اور حکام سے زیادہ واضح، تیار شدہ اور قابل پیمائش معلومات کے ساتھ دوبارہ پیش ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔ وزارت کے سیکریٹری نے نئے چیئرمین کو ذمہ داریاں سنبھالنے اور ادارہ جاتی ڈھانچہ مستحکم کرنے کے لیے وقت دینے کی درخواست کی۔

پاکستان کو پلاسٹک آلودگی، شہری کچرے کے ناقص انتظام، ندی نالوں میں فضلے اور کم ری سائیکلنگ کی وجہ سے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ وفاقی سطح کی پالیسی اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے جب صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے قواعد، فضلہ جمع کرنے کے نظام اور صنعت کی ذمہ داری کے طریقہ کار آپس میں مربوط ہوں۔ صرف پابندی کا اعلان اس وقت تک کافی نہیں ہوتا جب تک متبادل مصنوعات، نگرانی اور عمل درآمد کی صلاحیت موجود نہ ہو۔

وزیر کا یہ بیان کہ اتھارٹی مکمل فعال نہیں، ادارے کے خاتمے یا غیر قانونی ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ زیر بحث مجوزہ ترمیم اور مستقبل کا کردار قانون سازی اور سرکاری فیصلوں کے بعد واضح ہوگا۔ فی الحال پارلیمانی نگرانی کا بنیادی سوال یہ ہے کہ PCCA اپنی قانونی ذمہ داریوں، صوبائی رابطہ کاری اور قومی موسمیاتی پالیسی کے لیے کس حد تک عملی اور قابل پیمائش نتائج فراہم کر پا رہی ہے۔