پاکستان نے اقوام متحدہ میں عالمی غذائی تحفظ کے لیے موسمیاتی لچکدار زراعت میں سرمایہ کاری بڑھانے اور ترقی پذیر ممالک کو مالی و تکنیکی وسائل تک بہتر رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور بدلتے موسمی نمونے زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے ممالک کے پاس ان خطرات سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل ہیں۔

پاکستان نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی آفات فصلوں، مویشیوں، آبپاشی کے نظام اور دیہی آمدن کو ایک ساتھ متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے غذائی تحفظ کی پالیسی کو صرف پیداوار بڑھانے تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے بیج، آبپاشی، موسمی معلومات، فصل بیمہ، ذخیرہ اور مارکیٹ نظام تیار کرنا ضروری ہے جو موسمیاتی جھٹکوں کے دوران بھی کام کر سکیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور مالی وسائل تک رسائی میں عدم مساوات کا سامنا ہے۔ اسلام آباد نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ رعایتی فنانسنگ، گرانٹس اور صلاحیت سازی کے ذریعے موسمیاتی لچکدار زرعی منصوبوں کی رفتار بڑھائیں۔

پاکستان کے لیے غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ملک کا بڑا زرعی نظام دریائے سندھ کے پانی، برفانی ذخائر اور موسمی بارشوں پر منحصر ہے، جبکہ آبادی میں اضافے سے خوراک اور پانی کی طلب بڑھ رہی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں موسمی اتار چڑھاؤ درآمدی ضرورت، دیہی آمدن اور صارفین کے لیے قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا مطالبہ عالمی مالی یا زرعی پروگرام کی نئی منظوری نہیں بلکہ پالیسی سطح کی اپیل ہے۔ عملی پیش رفت کے لیے مخصوص منصوبوں، مالی وسائل، ٹیکنالوجی منتقلی اور قومی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ موسمیاتی لچکدار زراعت میں سرمایہ کاری کا فائدہ اسی وقت مکمل طور پر سامنے آئے گا جب تحقیق سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی چھوٹے کسانوں تک پہنچے، پانی کا استعمال زیادہ مؤثر ہو اور منڈی و ذخیرہ کے نظام فصل کے نقصان اور قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ کو کم کر سکیں۔