لاہور جمعرات کو فضائی آلودگی کی عالمی لائیو رینکنگ میں بڑے شہروں کے درمیان پہلے نمبر پر آ گیا، جہاں آئی کیو ایئر نے ایئر کوالٹی انڈیکس 189 ریکارڈ کیا۔ امریکی اے کیو آئی پیمانے پر یہ سطح ’’غیر صحت بخش‘‘ زمرے میں آتی ہے۔ اسی وقت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی آلودگی کی بلند سطحیں رپورٹ ہوئیں، جن میں راجن پور کی ریڈنگ صوبے میں سب سے زیادہ رہی۔
آئی کیو ایئر کی لائیو فہرست میں لاہور کے بعد دہلی کا اے کیو آئی 183 اور کولکتہ کا 172 بتایا گیا۔ کوالالمپور 169 اور ممبئی 166 کے ساتھ اگلے نمبروں پر تھے۔ یہ رینکنگ دنیا کے سو سے زیادہ بڑے شہروں کے مانیٹرنگ ڈیٹا کا تقابل کرتی ہے اور دن کے دوران نئے ڈیٹا کے ساتھ بدل سکتی ہے، اس لیے کسی مخصوص وقت کی پوزیشن کو پورے دن یا مستقل عالمی درجہ بندی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پنجاب حکومت کے سرکاری فضائی معیار ڈیش بورڈ پر شام تقریباً سات بجے راجن پور کا اے کیو آئی 339 ریکارڈ ہوا۔ قصور 266، فیصل آباد 251، پاکپتن 245 اور وہاڑی 233 پر تھے۔ کوٹ ادو میں 229، راولپنڈی میں 221، ڈیرہ غازی خان میں 219، ملتان میں 217 اور بھکر میں 208 کی ریڈنگ رپورٹ کی گئی۔ صوبائی ڈیش بورڈ پر اسی وقت لاہور کی ریڈنگ 198 تھی، جو شہر کو پنجاب کی فہرست میں بارہویں مقام پر رکھ رہی تھی۔
مختلف پلیٹ فارمز پر لاہور کے اعداد میں فرق اس لیے ہو سکتا ہے کہ مانیٹرنگ اسٹیشن، ڈیٹا اپ ڈیٹ کا وقت، حساب کا طریقہ اور جغرافیائی اوسط مختلف ہوں۔ آئی کیو ایئر کی عالمی فہرست اور پنجاب کے سرکاری ڈیش بورڈ کو ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقہ کار کی پیمائش تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ دونوں تاہم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی صحت کے لیے تشویش ناک سطح پر تھی۔
غیر صحت بخش فضائی معیار میں بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ طبی اور ماحولیاتی ادارے عموماً ایسی صورتحال میں غیر ضروری بیرونی سرگرمی کم کرنے، کھڑکیاں بند رکھنے، مناسب ماسک استعمال کرنے اور فضائی معیار کی تازہ مقامی ریڈنگ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اکتوبر اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ پنجاب میں سموگ کا خطرہ بڑھتا ہے، لیکن کسی ایک دن کی آلودگی کو صرف ایک ذریعے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ٹریفک، صنعت، گردوغبار، فصلوں کی باقیات جلانا، موسمی درجہ حرارت اور ہوا کی رفتار سمیت کئی عوامل مجموعی فضائی معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تازہ ریڈنگز صوبے میں سموگ سیزن کے دوران مسلسل نگرانی اور اخراج کم کرنے کے اقدامات کی اہمیت کو دوبارہ نمایاں کرتی ہیں۔

