ڈھاکا: بنگلہ دیش میں خسرہ کی شدید وبا کے دوران مارچ 2026 سے اب تک کم از کم 986 بچوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 180 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعداد بنگلہ دیشی وزارتِ صحت کے تازہ ریکارڈ پر مبنی ہیں۔ حکام اور طبی ماہرین اسے کئی دہائیوں میں ملک کی بدترین خسرہ وباؤں میں شمار کر رہے ہیں، تاہم کیسز کی الگ الگ مشتبہ اور لیبارٹری سے تصدیق شدہ تقسیم دستیاب تازہ رپورٹ میں مکمل طور پر بیان نہیں کی گئی۔

ڈھاکا کے بنگلہ دیش شیشو ہسپتال و انسٹی ٹیوٹ میں خسرہ کے لیے مختص وارڈ بھرے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے وقت وہاں 101 بچے مشتبہ یا تصدیق شدہ خسرہ کے ساتھ داخل تھے۔ ملک بھر میں روزانہ ایک ہزار سے زیادہ نئے مشتبہ کیس رپورٹ ہونے کی اطلاع ہے۔ بیشتر ریکارڈ شدہ مریض چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچے ہیں، اور ڈاکٹروں کے مطابق متعدد بچے ہسپتال پہنچنے تک شدید بیمار ہو چکے ہوتے ہیں۔

خسرہ ایک نہایت تیزی سے پھیلنے والا وائرل مرض ہے جو کھانسی اور چھینک سے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ مرض لگنے کے بعد اس کے وائرس کو ختم کرنے والی کوئی مخصوص دوا نہیں، اس لیے علاج میں علامات اور پیچیدگیوں کو سنبھالنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ شدید صورتوں میں سانس کے مسائل، نمونیا اور دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ کم عمر، غیر ویکسین شدہ یا نامکمل ویکسین لینے والے اور غذائی کمی کا شکار بچے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔

ہسپتال کے طبی عملے نے بتایا کہ بہت سے بچوں میں غذائی قلت پہلے ہی مدافعتی صلاحیت کم کر چکی ہے۔ بعض مریض خسرہ کے ساتھ نمونیا یا سانس کی دوسری سنگین بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں آکسیجن یا انتہائی نگہداشت درکار ہے۔ کسی ایک ہسپتال کی صورتِ حال پورے ملک کے ہر ضلع کی نمائندگی نہیں کرتی، مگر دارالحکومت کے خصوصی بچوں کے مرکز پر دباؤ وبا کی شدت اور ریفرل نظام پر بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔

تقریباً 17 کروڑ آبادی والے بنگلہ دیش نے بڑے پیمانے پر ویکسین مہم شروع کی ہے، لیکن کیسز میں اضافہ ابھی جاری ہے۔ وزیراعظم طارق رحمان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ایس ایم ضیاء الدین حیدر کے مطابق بڑی تعداد میں بچے مقررہ خوراکوں سے محروم رہ گئے تھے اور صحت کارکن اس خلا کو پورا کرنے کے لیے ویکسین لگا رہے ہیں۔ انہوں نے وبا کو تباہ کن قرار دیا، مگر موجودہ مہم کی مکمل کوریج، ضلع وار ہدف اور اب تک دی گئی خوراکوں کی حتمی تعداد رپورٹ میں موجود نہیں۔

حکام کے مطابق 2024 میں طے شدہ خسرہ مہم سیاسی ہنگاموں کے باعث مؤخر ہوئی، جبکہ 2025 میں کارکنوں کی ہڑتالوں اور سیاسی عدم استحکام نے اگلی مہم میں تاخیر کی۔ یہ عوامل ویکسین کے خلا سے متعلق سرکاری تشریح کا حصہ ہیں؛ وبا کی مکمل وجہ جانچنے کے لیے معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری، رسائی، کولڈ چین، آبادی کی نقل و حرکت اور ضلع وار کوریج کے تفصیلی اعداد بھی درکار ہوں گے۔

سابق سرکاری وبائی ماہر محمود الرحمٰن نے وسیع تر ویکسین مہم، عوامی آگاہی، متاثرہ بچوں کو دوسروں سے الگ رکھنے، ہاتھوں کی صفائی اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے حفاظتی احتیاطوں پر زور دیا ہے۔ کسی بچے میں بخار، دانے یا سانس کی دشواری کی صورت میں مقامی طبی نظام سے فوری رابطہ ضروری ہے، بالخصوص جب بچہ بہت کم عمر یا غذائی کمی کا شکار ہو۔

تازہ اعداد ایک جاری بحران کی تصویر پیش کرتے ہیں، حتمی وبائی مجموعہ نہیں۔ اموات ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں اور روزانہ نئے مشتبہ کیس سامنے آ رہے ہیں، اس لیے تعداد مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔ قابل تصدیق موجودہ نتیجہ یہ ہے کہ وزارتِ صحت نے مارچ سے 986 بچوں کی اموات اور 180 ہزار سے زیادہ مشتبہ و مصدقہ کیس رپورٹ کیے ہیں، جبکہ ملک گیر ویکسین مہم کے باوجود ہسپتالوں پر دباؤ برقرار ہے۔