بنگلہ دیش میں کئی دہائیوں کی شدید ترین خسرہ وبا کے دوران 5 ستمبر 2026 تک بیماری سے منسلک بچوں کی رپورٹ شدہ اموات 986 تک پہنچ گئی ہیں۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ اور بنگلہ دیشی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے روزانہ اعداد کے مطابق ان میں 99 اموات لیبارٹری سے تصدیق شدہ خسرہ کیسز میں ہوئیں، جبکہ 887 اموات خسرہ سے مشتبہ طور پر منسلک قرار دی گئی ہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ تمام اموات کی لیبارٹری تصدیق نہیں ہوئی۔
تازہ اعداد میں مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد 161,148 اور لیبارٹری سے تصدیق شدہ انفیکشن 19,527 بتائے گئے، یوں دونوں زمروں کا مجموعہ 180,000 سے زیادہ بنتا ہے۔ صحت حکام کے مطابق روزانہ تقریباً ایک ہزار نئے مشتبہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ نگرانی کے نظام میں درج تعداد ہے؛ ہلکی بیماری، طبی سہولت تک رسائی نہ ہونے یا رپورٹنگ میں تاخیر کے سبب حقیقی بوجھ اس سے مختلف ہوسکتا ہے۔
ڈھاکا کے بنگلہ دیش شیشو ہسپتال اینڈ انسٹی ٹیوٹ میں 101 بچے مشتبہ یا تصدیق شدہ خسرہ کے ساتھ زیر علاج بتائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے بچے ہسپتال پہنچنے تک شدید بیمار ہوتے ہیں اور بعض کو سانس کے مسائل کے باعث مسلسل آکسیجن یا انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔ نمونیا اور غذائی قلت جیسی حالتیں بچوں کی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت مزید کم کرسکتی ہیں۔
موجودہ وبا میں زیادہ تر کیس چھ ماہ سے پانچ سال عمر کے بچوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ خسرہ ایک نہایت متعدی وائرل بیماری ہے جو کھانسی اور چھینک کے ذرات کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس کے بعد نمونیا، شدید سانس کی تکلیف اور دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ بیماری لگنے کے بعد کوئی مخصوص معمول کا وائرس کش علاج دستیاب نہیں؛ طبی نگہداشت کا مقصد علامات، پانی و غذائیت اور پیچیدگیوں کا علاج کرنا ہوتا ہے، جبکہ سب سے مؤثر تحفظ بروقت ویکسینیشن ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے اپریل 2026 میں بنگلہ دیش کے قومی سطح کے خطرے کو بلند قرار دیا تھا۔ اس وقت 64 میں سے 58 اضلاع میں کیس رپورٹ ہوچکے تھے اور متاثرین کی بڑی اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل تھی۔ بعد کے مہینوں میں کیسز اور اموات میں مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ وبا محدود اضلاع سے آگے وسیع اور طویل عوامی صحت بحران بن چکی ہے۔
حکومت نے خسرہ اور روبیلا کے خلاف بڑے پیمانے کی ویکسینیشن مہم شروع کی ہے، لیکن صحت حکام کا کہنا ہے کہ کیسز بدستور بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024 کے لیے منصوبہ بند ایک مہم اس سیاسی بحران کے دوران مؤخر ہوئی جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی، جبکہ 2025 میں کارکنوں کی ہڑتالوں اور سیاسی عدم استحکام نے ایک اور مہم میں تاخیر کی۔ یہ عوامل حکام کی موجودہ تشریح ہیں؛ ہر متاثرہ بچے کی ویکسین حیثیت الگ ریکارڈ سے طے ہوگی۔
بنگلہ دیش نے ماضی میں بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں، لیکن ویکسین سے محروم یا نامکمل خوراک پانے والے بچوں کی تعداد جمع ہونے سے آبادی میں مدافعتی خلا پیدا ہوا۔ وبا روکنے کے لیے صرف ہنگامی مہم کافی نہیں ہوگی؛ معمول کی پہلی اور دوسری خوراک، چھوٹ جانے والے بچوں کی تلاش، ویکسین کی مسلسل رسد، کولڈ چین، درست ریکارڈ اور مشکل آبادیوں تک رسائی بھی ضروری ہے۔
مشتبہ اور تصدیق شدہ اعداد کو الگ رکھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وبا کے دوران ہر مریض کا لیبارٹری ٹیسٹ ممکن نہیں ہوتا۔ وبائی علامات اور رابطے کی بنیاد پر مشتبہ کیس فوری علاج اور نگرانی میں شامل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ تصدیق کے لیے مناسب نمونہ اور لیبارٹری نتیجہ درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح مشتبہ موت کا خسرہ سے تعلق مزید طبی یا وبائی جانچ سے واضح ہوسکتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ تصویر صحت حکام کے جاری کردہ 986 رپورٹ شدہ اموات، 161,148 مشتبہ کیسز، 19,527 تصدیق شدہ کیسز، روزانہ بلند نئی رپورٹنگ اور جاری قومی ویکسینیشن مہم کی ہے۔ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی، اس لیے مجموعی تعداد بدل سکتی ہے اور تازہ ترین سرکاری بلیٹن کو کسی بھی بعد کی گنتی کے لیے بنیادی حوالہ سمجھا جائے گا۔




