ویانا/کیف: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، نے کہا ہے کہ روس کے زیرِ کنٹرول زاپوریژیا جوہری بجلی گھر کی بیرونی بجلی بحال کرنے کے لیے پلانٹ کے قریب محدود اور مقامی جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ اس انتظام کا مقصد مرمتی کارکنوں کو بجلی کی متاثرہ لائنوں تک محفوظ رسائی دینا ہے۔ یہ پورے محاذ یا روس یوکرین جنگ کے لیے عمومی جنگ بندی نہیں، بلکہ ایک مخصوص جوہری حفاظتی کام کے لیے عارضی مقامی بندوبست ہے۔

آئی اے ای اے کے مطابق زاپوریژیا پلانٹ 20 اگست سے بیرونی برقی رسد سے منقطع ہے اور اہم حفاظتی و کولنگ نظام چلانے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹروں پر انحصار کر رہا ہے۔ جوہری تنصیب میں پیداوار کی حالت کچھ بھی ہو، ایندھن اور دوسرے حساس حصوں کو محفوظ رکھنے، آلات کی نگرانی اور بنیادی حفاظتی نظام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے۔ بیرونی گرڈ سے طویل علیحدگی اس لیے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہے کہ ہنگامی جنریٹر مستقل متبادل نہیں ہوتے۔

ایجنسی نے خبردار کیا کہ دستیاب ڈیزل ذخائر کم ہو رہے ہیں اور اگر بجلی جلد بحال نہ ہوئی یا مزید ایندھن نہ پہنچا تو چند دن میں مکمل اسٹیشن بلیک آؤٹ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں مرمت کا مقصد کسی تجارتی پیداوار کو فوری طور پر دوبارہ شروع کرنا نہیں، بلکہ تنصیب کے حفاظتی نظام کے لیے قابلِ اعتماد بیرونی توانائی کا راستہ بحال کرنا ہے۔ ڈیزل ذخیرے کی درست باقی مقدار اور ہر جنریٹر کی عملی حالت کی مکمل عوامی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

منصوبے کے مطابق یوکرینی تکنیکی کارکن بجلی کی لائنوں پر مرمت شروع کریں گے، لیکن اس سے پہلے متعلقہ علاقے میں بارودی سرنگوں اور دوسرے دھماکا خیز خطرات کی صفائی ضروری ہے۔ جنگی علاقے میں بجلی کی لائنوں، کھمبوں اور ذیلی تنصیبات تک پہنچنا خود ایک خطرناک انجینئرنگ آپریشن ہے۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد لائن کی آزمائش، گرڈ سے دوبارہ اتصال اور پلانٹ کے اندر برقی نظام کی جانچ بھی درکار ہوگی۔ اس لیے جنگ بندی نافذ ہونا بجلی بحال ہونے کے برابر نہیں؛ عملی نتیجہ مرمت اور کامیاب تکنیکی جانچ کے بعد سامنے آئے گا۔

زاپوریژیا یورپ کے بڑے جوہری بجلی گھروں میں شامل ہے اور فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر وسیع حملے کے بعد سے مسلسل بین الاقوامی تشویش کا مرکز رہا ہے۔ روسی فورسز پلانٹ اور اس کے اطراف پر قابض ہیں، جبکہ یوکرینی عملہ اور تکنیکی نظام مختلف ادوار میں شدید دباؤ میں کام کرتے رہے ہیں۔ دونوں فریق ماضی میں پلانٹ کے قریب گولہ باری اور حفاظتی خطرات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔ تازہ محدود جنگ بندی کی تصدیق آئی اے ای اے نے مرمت کے مقصد سے کی ہے؛ اس سے سابقہ حملوں کی ذمہ داری طے نہیں ہوتی۔

آئی اے ای اے کے ماہرین پلانٹ پر موجود رہ کر حفاظتی حالات کی نگرانی کرتے ہیں اور ایجنسی بارہا اس اصول پر زور دے چکی ہے کہ جوہری تنصیب پر یا اس کے قریب حملہ نہ ہو، اسے فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور بیرونی بجلی و رسد برقرار رکھی جائے۔ موجودہ بندوبست اسی فوری حفاظتی ضرورت کا ردعمل ہے۔ تاہم اس کی مدت، فریقین کے فوجی احکامات اور مرمت مکمل ہونے کے بعد علاقے میں پابندیوں کی نوعیت کی پوری تفصیل عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔

مرمتی عمل کے دوران سب سے اہم قابلِ پیمائش مراحل علاقے کی محفوظ کلیئرنس، تکنیکی ٹیم کی لائن تک رسائی، خرابی کی درست شناخت، پرزوں کی تبدیلی یا لائن کی بحالی اور بیرونی بجلی کی مستحکم واپسی ہوں گے۔ کسی بھی مرحلے میں نئی گولہ باری یا بارودی خطرہ کام روک سکتا ہے۔ اسی لیے آئی اے ای اے کی ثالثی میں دونوں فریقوں کا محدود تعاون جوہری تحفظ کے لیے اہم ہے، مگر اس سے وسیع سیاسی مذاکرات یا جنگ کے خاتمے پر اتفاق ثابت نہیں ہوتا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ مرمت کے لیے مقامی جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے اور یوکرینی تکنیکی ٹیم کو بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد کام شروع کرنا ہے۔ پلانٹ ابھی بیرونی بجلی کے بغیر ہنگامی ڈیزل پر منحصر ہے۔ اگلا حتمی نتیجہ اس وقت ہوگا جب آئی اے ای اے بیرونی پاور لائن کی کامیاب بحالی اور حفاظتی نظام کے دوبارہ گرڈ سے منسلک ہونے کی تصدیق کرے گی۔