جرمنی کے مغربی شہر ڈورماگن میں بجلی کے گرڈ سے منسلک ایک ٹرانسفارمر کو شارٹ سرکٹ کرنے کی کوشش کے بعد پولیس نے ممکنہ تخریب کاری کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ڈان میں شائع رائٹرز کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق واقعہ 4 ستمبر کو شمالی رائن ویسٹ فیلیا میں پیش آیا اور اسے ایک ہی ہفتے میں جرمن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تیسری مشتبہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ کسی فرد یا ریاست کی ذمہ داری ابھی ثابت نہیں ہوئی۔
کولون پولیس نے بتایا کہ اسے ایک خط کے بارے میں معلومات ہیں جس میں ڈورماگن کے واقعے اور قریب واقع برگہائم کے سب اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس نے جاری تفتیش کے باعث خط کے متن یا اس کی صداقت کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی۔ جرمن اخبار بلڈ نے رپورٹ کیا کہ ایک شخص نے ہاتھ سے لکھے خط میں دونوں واقعات کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنی شناخت بھی ظاہر کی، لیکن حکام نے واضح نہیں کیا کہ دعویٰ کرنے والا ہی اصل مرتکب تھا۔
برگہائم کے سب اسٹیشن میں منگل کو ہونے والی توڑ پھوڑ سے تقریباً چار ہزار 200 میگاواٹ پیداواری صلاحیت عارضی طور پر آف لائن ہوگئی تھی۔ یہ عدد متاثرہ برقی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، لازماً اتنے ہی صارفین کے مکمل اور مسلسل بلیک آؤٹ کو نہیں۔ گرڈ آپریٹر متبادل راستوں، محفوظ ذخائر اور دوسرے پیداواری ذرائع سے فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کرسکتا ہے، جبکہ اصل صارف اثر کی تفصیل رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
اسی ہفتے مشرقی ریاست برانڈنبرگ میں بھی ایک اہم ہائی وولٹیج مرکز کی بجلی کی تاروں کو ایسے آلات سے نقصان پہنچایا گیا جن میں برقی رو گزارنے والا مواد موجود تھا۔ حکام ان واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کی جانچ کر رہے ہیں، لیکن دستیاب رپورٹ نے کسی مشترکہ گروہ، ایک ہی ملزم یا مربوط منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔ واقعات کا مختصر زمانی فاصلہ تفتیشی دلچسپی پیدا کرتا ہے، مگر یہ بذاتِ خود ایک ہی ذمہ دار ہونے کا ثبوت نہیں۔
جرمنی میں اہم توانائی، مواصلاتی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت سے متعلق تشویش ایک ایسے وقت بڑھی ہے جب حکومت نے گزشتہ ماہ لائپزگ/ہالے ہوائی اڈے پر ڈرون واقعے کو روس سے منسوب کیا تھا۔ ماسکو نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ موجودہ ڈورماگن اور برگہائم واقعات کے بارے میں پولیس رپورٹ نے روس یا کسی دوسری غیر ملکی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی، اس لیے سابقہ سیاسی الزامات کو نئے کیس کا ثابت شدہ پس منظر نہیں سمجھا جاسکتا۔
جرمن وزارت داخلہ نے مشتبہ واقعات کے وقت کو مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں ہونے والے انتخابات کے تناظر میں قابل توجہ قرار دیا۔ وہاں روس دوست سمجھی جانے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی رائے عامہ کے جائزوں میں آگے بتائی گئی ہے۔ وزارت نے واقعات کو ممکنہ ’’ہائبرڈ حملوں‘‘ کے ماحول سے جوڑا، لیکن یہ حکومتی تشریح ہے؛ مجرمانہ ذمہ داری اور محرک کا تعین پولیس اور عدالتی عمل کرے گا۔
چانسلر فریڈرش میرٹز کے ترجمان نے کہا کہ ناکام یا بروقت روکی گئی کارروائیاں جرمن سکیورٹی اقدامات کے کام کرنے کی علامت ہیں۔ اس کے باوجود بجلی کے ٹرانسفارمر، سب اسٹیشن اور ہائی وولٹیج نوڈز وسیع علاقے کی فراہمی پر اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے جسمانی نگرانی، رسائی کی پابندی، سینسر، متبادل راستے اور تیز مرمت بنیادی حفاظتی ضروریات ہیں۔ رپورٹ میں ڈورماگن تنصیب کو پہنچنے والے نقصان یا فراہمی میں خلل کی مقدار نہیں بتائی گئی۔
تحقیقات میں ذمہ داری قبول کرنے والے خط کی اصلیت، تنصیبات تک رسائی، ممکنہ آلات، نگرانی کی فوٹیج اور مختلف مقامات کے شواہد کا تقابل اہم ہوگا۔ خط میں کسی نام کا ہونا گرفتاری، فردِ جرم یا جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں۔ اسی طرح واقعے کو سیاسی یا غیر ملکی مداخلت قرار دینے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ڈورماگن ٹرانسفارمر کو شارٹ سرکٹ کرنے کی کوشش، برگہائم اور برانڈنبرگ کے الگ واقعات، چار ہزار 200 میگاواٹ صلاحیت کے عارضی طور پر آف لائن ہونے کی اطلاع اور کولون پولیس کی خط سمیت جاری تحقیقات ہیں۔ مرتکب، محرک اور تینوں واقعات کے ممکنہ تعلق کا حتمی تعین ابھی باقی ہے۔




