ڈھاکا/ٹوکیو: بنگلہ دیش نے بڑھتی ہوئی گیس طلب پوری کرنے کے لیے 2030 تک مائع قدرتی گیس، LNG، کی درآمدی صلاحیت میں بڑا اضافہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ Dawn میں شائع ہونے والی Reuters رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے بجلی، توانائی و معدنی وسائل Anindya Islam Amit نے ٹوکیو میں LNG Producer-Consumer Conference کے دوران کہا کہ حکومت ایک نئی floating storage and regasification unit، FSRU، کو 2028 تک اور ایک نیا زمینی LNG ٹرمینل 2030 تک فعال کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
نئی floating unit Cox’s Bazar کے Moheshkhali Island کے قریب قائم کرنے کی تجویز ہے اور اس کی regasification صلاحیت تقریباً 600 million cubic feet per day، mmcfd، ہوگی۔ حکومت اس کے علاوہ Matarbari میں ایک land-based import terminal تیار کرنا چاہتی ہے جس کی متوقع regasification صلاحیت تقریباً 1,000 mmcfd بتائی گئی ہے۔ دونوں منصوبے مکمل ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش کی LNG درآمدی اور گیس نظام میں شامل کرنے کی گنجائش نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کے پاس اس وقت دو floating LNG import terminals موجود ہیں جو مجموعی طور پر تقریباً 1,100 mmcfd گیس regasify کر سکتے ہیں۔ نئی سہولتوں کا منصوبہ اس توقع پر بنایا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں بجلی، صنعت اور شہری استعمال کے لیے گیس کی طلب بڑھے گی، جبکہ مقامی گیس ذخائر پر دباؤ برقرار رہے گا۔
FSRU سمندر میں LNG وصول کرنے، ذخیرہ کرنے اور اسے دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ land-based terminal عموماً بڑی اور طویل مدتی درآمدی صلاحیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکمت عملی دونوں اقسام کے انفراسٹرکچر کو شامل کرتی ہے تاکہ نسبتاً جلد اضافی capacity حاصل کرنے کے ساتھ 2030 کے بعد کے لیے بڑی زمینی سہولت بھی تیار کی جا سکے۔
اعلان منصوبہ بندی اور حکومتی ہدف کی سطح پر ہے؛ رپورٹ میں تعمیراتی معاہدوں، حتمی سرمایہ کاری لاگت، financing structure یا تمام regulatory approvals کی تکمیل کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ اس لیے 2028 اور 2030 کی تاریخیں موجودہ targets ہیں اور منصوبوں کی procurement، financing، تعمیر اور تکنیکی منظوری کے مراحل کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں۔
LNG درآمدات بڑھانے سے بنگلہ دیش کو گیس کی قلت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ عالمی spot اور long-term LNG prices، زرمبادلہ کی ضرورت اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے اخراجات بھی اہم رہیں گے۔ حکومت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ نئی capacity کو ایسے مالی اور توانائی منصوبے سے جوڑا جائے جو درآمدی ایندھن پر بڑھتے انحصار کو قابل برداشت رکھ سکے اور بجلی و صنعت کو نسبتاً مستحکم سپلائی دے۔

