بینک آف جاپان نے اپنی تازہ پالیسی میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم مرکزی بینک نے واضح اشارہ دیا کہ اگر معیشت اور قیمتوں کی رفتار اس کے اندازوں کے مطابق رہی تو آئندہ مہینوں میں مزید مانیٹری سختی کی جاسکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق گورنر کازو اوئیدا نے پالیسی اجلاس کے بعد کہا کہ جاپان قیمتوں کے استحکام کے ہدف کو پائیدار انداز میں حاصل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے، جس سے مستقبل میں شرح سود بڑھانے کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔

مرکزی بینک کا فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹوکیو کے تازہ مہنگائی اعداد بھی قیمتوں کے دباؤ کی موجودگی ظاہر کر رہے ہیں۔ اکتوبر میں ٹوکیو کا بنیادی کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیاد پر 2.6 فیصد بڑھا، جو مارکیٹ کی پیش گوئی کے مطابق تھا اور بینک آف جاپان کے 2 فیصد ہدف سے اوپر رہا۔ تازہ اعداد نے اس بحث کو تقویت دی ہے کہ مرکزی بینک کو آنے والے اجلاسوں میں شرح سود مزید بڑھانے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق بینک آف جاپان نے فوری اضافے کے بجائے موجودہ شرح برقرار رکھ کر عالمی اور ملکی خطرات کا جائزہ جاری رکھنے کا انتخاب کیا۔ جاپان طویل عرصے تک انتہائی نرم مانیٹری پالیسی اور کم شرح سود پر انحصار کرتا رہا ہے، اس لیے پالیسی میں ہر تبدیلی مالیاتی منڈیوں، ین کی قدر، حکومتی بانڈز اور کاروباری قرضوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی بینک شرح سود میں اضافے کی رفتار کو محتاط رکھ رہا ہے۔

گورنر اوئیدا کے بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اجرتوں اور قیمتوں کا باہمی تعلق، بنیادی مہنگائی اور معاشی سرگرمی پالیسی کے اگلے فیصلوں میں اہم ہوں گے۔ مرکزی بینک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ مہنگائی صرف عارضی درآمدی یا توانائی عوامل کا نتیجہ نہ ہو بلکہ گھریلو طلب اور اجرتوں سے بھی پائیدار طور پر جڑی ہو۔ اگر یہ شرائط پوری ہوتی رہیں تو شرح سود میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

عالمی سرمایہ کار بینک آف جاپان کی پالیسی کو خاص اہمیت دیتے ہیں کیونکہ جاپانی شرح سود میں تبدیلی عالمی بانڈ اور کرنسی منڈیوں میں سرمایہ کے بہاؤ کو متاثر کرسکتی ہے۔ تازہ فیصلہ فوری پالیسی تبدیلی کے بجائے محتاط تسلسل کی علامت ہے، لیکن مرکزی بینک کا پیغام یہ ہے کہ مانیٹری نارملائزیشن کا عمل ختم نہیں ہوا اور مہنگائی و معاشی اعداد سازگار رہے تو اگلا اضافہ نسبتاً قریب ہوسکتا ہے۔