کراچی: پاکستان اسٹیٹ آئل نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بعد از ٹیکس منافع 25.56 ارب روپے رپورٹ کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9.39 ارب روپے تھا۔ کمپنی کے مالی نتائج کے مطابق فی حصص آمدن 54.44 روپے رہی، جبکہ ایک سال پہلے یہ 20 روپے تھی۔ منافع میں اضافے کی بڑی وجوہات میں فروخت کے حجم میں اضافہ اور مصنوعات کے بہتر امتزاج کو شامل کیا گیا، اگرچہ زیادہ مالیاتی اخراجات نے مجموعی کارکردگی پر کچھ دباؤ ڈالا۔

جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران پی ایس او کی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 17.8 فیصد بڑھی۔ اسی عرصے میں مجموعی صنعت کی فروخت میں 7.1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، یعنی کمپنی کی شرح نمو مارکیٹ کے مجموعی اضافے سے دو گنا سے بھی زیادہ رہی۔ اس کارکردگی کے نتیجے میں پی ایس او کا مجموعی مارکیٹ شیئر 4.2 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 45.9 فیصد تک پہنچ گیا۔

کمپنی کے مطابق موٹر پٹرول کی فروخت 23.2 فیصد بڑھ کر 968 ہزار ٹن ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 12.8 فیصد اضافے کے ساتھ 759 ہزار ٹن رہی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب قومی سطح پر ڈیزل کی طلب میں کمی دیکھی گئی۔ چیف ایگزیکٹو جواد احمد چیمہ نے کہا کہ شدید علاقائی رسدی رکاوٹوں کے باوجود کمپنی نے سپلائی برقرار رکھی اور مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی۔

گروپ کی سطح پر، جس میں پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی شراکت بھی شامل ہے، مجموعی بعد از ٹیکس منافع 29.42 ارب روپے رہا اور فی حصص آمدن 62.66 روپے ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ بنیادی آئل مارکیٹنگ کاروبار کے ساتھ منسلک اداروں کی کارکردگی نے بھی مجموعی نتائج میں حصہ ڈالا۔

پاکستان کی آئل مارکیٹنگ صنعت حالیہ مہینوں میں عالمی تیل قیمتوں، علاقائی کشیدگی، درآمدی رسد اور ملکی طلب میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل سے متاثر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پی ایس او کے لیے فروخت میں اضافہ اور مارکیٹ شیئر بڑھانا اہم کاروباری پیش رفت ہے، تاہم بلند مالیاتی اخراجات اور عالمی توانائی منڈی کی غیر یقینی صورتحال آئندہ سہ ماہیوں کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

اسی کاروباری رپورٹ میں دیگر کمپنیوں کے تازہ نتائج بھی سامنے آئے، لیکن پی ایس او کے اعداد الگ طور پر نمایاں رہے کیونکہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں منافع میں بڑا اضافہ اور صنعت کی اوسط سے زیادہ فروخت نمو رپورٹ کی۔ کمپنی کی آئندہ کارکردگی کا انحصار مصنوعات کی طلب، درآمدی لاگت، قیمتوں کے سرکاری طریقہ کار، مالیاتی اخراجات اور ملک میں ایندھن کی سپلائی کے تسلسل پر ہوگا۔