اسلام آباد: بجلی کی پیداواری لاگت میں ایندھن پر عائد لیویز کے اثرات ایک بار پھر پالیسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں پاور ڈویژن اور صنعتی نمائندوں نے فرنس آئل اور ڈیزل پر عائد مالی بوجھ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ڈان کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صنعت کا مؤقف ہے کہ موجودہ لیوی بجلی کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے اور بعض تخمینوں کے مطابق اس کا اثر تقریباً 10 روپے فی یونٹ تک پہنچتا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے صارفین سے تقریباً 33 ارب روپے کی وصولی کے لیے 2.56 روپے فی یونٹ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی ہے۔ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بجلی کی اصل پیداواری ایندھن لاگت اور پہلے سے مقرر حوالہ لاگت کے فرق کی بنیاد پر صارفین کے بلوں میں شامل یا منہا کی جاتی ہے، اس لیے ایندھن کی قیمت، پیداواری مکس اور مالی محصولات اس حساب پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد لیوی سے ان پلانٹس کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جو ضرورت کے وقت ان ایندھنوں سے بجلی بناتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مالی بوجھ کم کیا جائے تو مجموعی پاور پرچیز لاگت اور بالآخر صارفین کے ٹیرف پر دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم کسی لیوی میں کمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کے محصولات پر بھی اثر ڈالتا ہے، اس لیے معاملہ صرف بجلی کے شعبے تک محدود نہیں۔

پاکستان کا بجلی نظام مختلف ذرائع پر انحصار کرتا ہے جن میں پن بجلی، جوہری توانائی، مقامی و درآمدی کوئلہ، گیس، آر ایل این جی، فرنس آئل اور قابل تجدید توانائی شامل ہیں۔ کسی مخصوص مہینے میں سستے یا مہنگے ذرائع کے استعمال کا تناسب فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کو متاثر کرتا ہے۔ اگر کم لاگت والے ذرائع دستیاب نہ ہوں یا طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن والے پلانٹس چلانے پڑیں تو صارفین پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

سی پی پی اے کی درخواست خود بخود ٹیرف میں اضافہ نہیں بنتی؛ اس پر متعلقہ ریگولیٹری عمل اور جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح صنعت کی جانب سے لیوی کم کرنے کا مطالبہ بھی ایک پالیسی تجویز ہے، حتمی حکومتی فیصلہ نہیں۔ اس فرق کو اہم سمجھنا چاہیے کیونکہ بجلی کی قیمتوں سے متعلق درخواست، سماعت، منظوری اور عملی بلنگ الگ مراحل ہیں۔

موجودہ بحث میں حکومت کے سامنے دو متوازی اہداف ہیں: بجلی کی قیمت کو صنعت اور گھریلو صارفین کے لیے قابل برداشت رکھنا اور دوسری جانب محصولات و توانائی شعبے کی مالی ضروریات پوری کرنا۔ کسی بھی تبدیلی کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت لیوی پالیسی میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور ریگولیٹر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کو کس حد تک منظور کرتا ہے۔