اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مختلف برآمدی شعبوں کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کے نرخوں میں نظرثانی کردی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئی شرحیں ٹیکسٹائل اور اس سے منسلک مصنوعات، چمڑے اور متعلقہ اشیا، اور انجینئرنگ و اس سے وابستہ مصنوعات کی برآمدات پر لاگو ہوں گی۔ ایف بی آر نے ان تبدیلیوں کو تین علیحدہ قانونی نوٹیفکیشنز کے ذریعے جاری کیا ہے۔
ٹیکسٹائل اور متعلقہ مصنوعات کے لیے نئی ڈیوٹی ڈرا بیک شرحیں ایس آر او 1908 آف 2026 کے ذریعے نوٹیفائی کی گئی ہیں۔ چمڑے اور اس سے وابستہ برآمدی مصنوعات کے لیے ایس آر او 1909 آف 2026 جاری کیا گیا، جبکہ انجینئرنگ اور متعلقہ مصنوعات کی برآمد پر ڈیوٹی ڈرا بیک کے نظرثانی شدہ نرخ ایس آر او 1910 آف 2026 میں دیے گئے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں ہر انفرادی مصنوعات کے نئے فیصد یا رقم کی مکمل فہرست بیان نہیں کی گئی۔
ڈیوٹی ڈرا بیک کا نظام عمومی طور پر برآمدی اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال یا ان پٹس پر ادا کی گئی بعض کسٹمز ڈیوٹیز کی واپسی سے متعلق ہوتا ہے۔ اس نظام کا مقصد برآمدی مصنوعات میں ایسے درآمدی ٹیکسوں کے اثر کو کم کرنا ہوتا ہے جو عالمی منڈی میں قیمت اور مسابقت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص برآمد کنندہ کو ملنے والی رقم متعلقہ نوٹیفکیشن، مصنوعات کی درجہ بندی اور قابل اطلاق شرائط پر منحصر ہوتی ہے۔
ایف بی آر کی حالیہ نظرثانی کو گزشتہ وفاقی بجٹ میں ٹیرف کو ریشنلائز کرنے کے اقدامات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ چونکہ درآمدی ڈیوٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی سے برآمدی مصنوعات کے ان پٹس پر ادا ہونے والی رقم بھی بدل سکتی ہے، اس لیے ڈرا بیک کی پرانی شرحوں کو نئے ٹیرف ڈھانچے کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔ نئی نوٹیفکیشنز اسی عمل کا حصہ ہیں۔
ٹیکسٹائل پاکستان کے بڑے برآمدی شعبوں میں شامل ہے، جبکہ چمڑے اور انجینئرنگ مصنوعات بھی برآمدی آمدن میں حصہ ڈالتی ہیں۔ ایسے میں ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحوں میں تبدیلی برآمد کنندگان کی لاگت اور ریفنڈ کلیمز پر عملی اثر ڈال سکتی ہے۔ کمپنیوں اور برآمد کنندگان کے لیے حتمی مالی اثر جاننے کے لیے متعلقہ ایس آر او میں اپنی مصنوعات کے ٹیرف کوڈ اور نئی شرح کا موازنہ ضروری ہوگا۔
یہ اقدام کسی نئی سبسڈی کے اعلان کے بجائے موجودہ ڈیوٹی واپسی نظام کے نرخوں کی نظرثانی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری تین نوٹیفکیشنز متعلقہ شعبوں کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے عملی نفاذ میں مصنوعات کی درست کسٹمز درجہ بندی اور مقررہ دستاویزی تقاضے اہم رہیں گے۔
