وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کی رفتار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مالیاتی ریگولیٹرز اور بینکوں سے کہا ہے کہ ایس ایم ای شعبے کے لیے قرض، لیزنگ اور انشورنس تک رسائی آسان بنائی جائے۔ اسلام آباد میں ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینک حکومت کی ہدایات کے مطابق مطلوبہ فنانسنگ فراہم نہیں کر رہے۔
اجلاس میں ایس ایم ای نمائندوں، کاروباری کلسٹرز، کمرشل بینکوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور متعلقہ سرکاری محکموں نے شرکت کی۔ شرکا نے کاروباروں کو سستے اور بروقت مالی وسائل حاصل کرنے میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا اور قرض کے عمل کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایس ایم ای فنانسنگ کا مجموعی حجم 1.1 کھرب روپے سے بڑھا کر 2028 تک 2.2 کھرب روپے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے قرض کے طریقہ کار کو آسان بنانے، کاروباری کلسٹرز کے ساتھ رابطہ بہتر کرنے اور اہل اداروں کو فنانسنگ تک پہنچانے کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا ہے۔
ایس ایم ای نمائندوں نے شکایت کی کہ مختلف بینکوں میں قرض کی درخواست کے یکساں فارم، مطلوبہ دستاویزات کی واضح چیک لسٹ اور درخواست موصول ہونے یا فیصلے کی بروقت اطلاع کا نظام کمزور ہے۔ انہوں نے ورکنگ کیپیٹل، کاروبار کی توسیع اور نئی سرمایہ کاری کے لیے قرض کے حصول میں طریقہ کار اور ضمانتوں سے متعلق مشکلات بھی بیان کیں۔ بینکوں سے کہا گیا کہ قابلِ عمل کاروباروں کی جانچ میں کیش فلو، دستاویزی لین دین اور قواعد کے مطابق متبادل ضمانتوں کو بھی مناسب وزن دیا جائے۔
حکومت کے مقرر کردہ 2.2 کھرب روپے کے ہدف کو فوری دستیاب فنڈ سمجھنا درست نہیں؛ یہ 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ بڑھانے کا ہدف ہے۔ تازہ اجلاس کا مرکز اس ہدف تک پہنچنے کے لیے قرض دینے کے عملی مسائل، ریگولیٹری تعاون اور بینکوں کی جواب دہی بہتر بنانا تھا۔

