لاہور: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے حکومت اور بینکاری شعبے پر زور دیا ہے کہ معاشی مشکلات سے متاثرہ صنعتی اداروں کے قرضوں کی ری شیڈولنگ سمیت ایسے اقدامات پر غور کیا جائے جن سے پیداواری لاگت کم اور بند یا کم استعداد پر چلنے والے کاروبار دوبارہ فعال ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 25 فیصد تک کی شرح پر قرض لے کر کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور ایسے حالات میں قرضوں کی ری شیڈولنگ متاثرہ صنعتکاروں کو دوبارہ کام شروع کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیداواری لاگت کم کرنے سے متعلق تجاویز وزیراعظم کو پیش کی جا چکی ہیں اور کاروباری برادری کی مزید سفارشات بھی وفاقی حکومت تک پہنچائی جائیں گی۔
اجلاس میں صنعت و تجارت کو درپیش مالی دباؤ، قرض کی بلند لاگت اور کاروباری سرگرمی بڑھانے کے لیے پالیسی تعاون پر بات ہوئی۔ وزیر نے کہا کہ ان کے اختیار میں آنے والے کاروباری مسائل کے حل کے لیے کوشش جاری رکھی جائے گی۔ ان کا بیان کسی باقاعدہ قرض معافی یا ری شیڈولنگ اسکیم کے نفاذ کا اعلان نہیں بلکہ حکومت اور بینکوں کے لیے ایک پالیسی تجویز ہے۔
قرضوں کی ری شیڈولنگ میں عام طور پر ادائیگی کی مدت، اقساط یا دیگر شرائط میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے، تاہم ایسی کسی سہولت کی حتمی شکل متعلقہ مالیاتی اداروں، ریگولیٹری قواعد اور حکومتی فیصلوں پر منحصر ہوگی۔ موجودہ بیان میں کسی مخصوص صنعت، قرض حجم یا ریلیف پیکیج کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستانی صنعتکار طویل عرصے سے توانائی، مالیاتی لاگت، ٹیکس اور دیگر کاروباری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ بلند قرض لاگت سرمایہ کاری اور ورکنگ کیپیٹل دونوں پر اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً ان اداروں کے لیے جو بینک فنانسنگ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ لاہور چیمبر میں سامنے آنے والی تجویز کی عملی اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب حکومت، اسٹیٹ بینک یا تجارتی بینک قرض ری شیڈولنگ سے متعلق کوئی باقاعدہ طریقہ کار یا پالیسی جاری کریں گے۔

