رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران خلیجی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی فرق 2.85 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26.06 فیصد کم ہے۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ خلیجی خطے سے درآمدات میں کمی تھی۔ جولائی تا ستمبر خلیجی ممالک سے پاکستان کی درآمدات 3.28 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے 4.29 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح درآمدی بل میں تقریباً 23.46 فیصد کمی ہوئی۔ اسی مدت میں خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات بھی 4.77 فیصد کم ہو کر 433.55 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 455.26 ملین ڈالر تھیں۔
خلیجی خطے میں متحدہ عرب امارات پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو اے ای سے درآمدات میں کمی نے مجموعی خلیجی درآمدی بل کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی منڈیوں کے ساتھ تجارت کے اعداد بھی مجموعی رجحان پر اثر انداز ہوئے۔ پاکستان ان ممالک سے توانائی، پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف صنعتی و صارف اشیا درآمد کرتا ہے، جبکہ چاول، گوشت، ٹیکسٹائل، پھل، سبزیاں اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے۔
تجارتی خسارے میں کمی کو صرف برآمدی بہتری کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ تازہ سہ ماہی میں خلیجی منڈیوں کو برآمدات بھی سالانہ بنیاد پر کم ہوئی ہیں۔ اصل فرق درآمدات میں نسبتاً زیادہ کمی سے پیدا ہوا ہے۔ اس لیے پائیدار بیرونی توازن کے لیے برآمدی حجم اور قدر میں مستقل اضافہ اہم رہے گا۔
خلیجی ممالک پاکستان کے لیے تجارت کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے بھی اہم ذرائع ہیں۔ پہلی سہ ماہی کے اعداد وقتی تجارتی رجحان دکھاتے ہیں؛ پورے مالی سال کا نتیجہ عالمی تیل کی قیمتوں، ملکی طلب، شرح مبادلہ اور برآمدی کارکردگی سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوگا۔

