دوحہ: پاکستان اور قطر نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، تجارتی سہولت بہتر بنانے اور ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اجلاس 24 اکتوبر کو دوحہ میں ہوا، جس کی تفصیلات پاکستان کی وزارت اطلاعات کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے 25 اکتوبر کو جاری کیں۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت امور ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ پاکستان کی متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں نے ورچوئل شرکت کی جبکہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے مشترکہ ٹاسک فورس کے سیکریٹریٹ کی حیثیت سے پاکستان سے رابطہ کاری کی۔ دونوں جانب نے اپریل 2026 میں ہونے والے افتتاحی اجلاس کے بعد پیش رفت کا جائزہ لیا۔
پاکستانی وفد نے بتایا کہ گیارہ مجوزہ ورکنگ گروپس کے لیے اپنی جانب کی تشکیل پہلے ہی قطر کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے اور قطری فریق سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نامزدگیاں جلد فراہم کرے تاکہ یہ گروپس باقاعدہ کام شروع کر سکیں۔ پاکستان نے تجویز دی کہ ہر ورکنگ گروپ قابل عمل تجارتی اور سرمایہ کاری مواقع کی نشاندہی کرے، رکاوٹوں اور زیر التوا معاملات کو سامنے لائے اور تیسرے مشترکہ ٹاسک فورس اجلاس سے پہلے شعبہ وار پیش رفت رپورٹ اور سفارشات تیار کرے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں وزرا نے مشترکہ ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے منٹس پر بھی باضابطہ دستخط کیے۔ فریقین نے مسلسل رابطے، بہتر تجارتی سہولت اور سرمایہ کاری شراکت داری کے ذریعے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی جلد تکمیل، قطری مارکیٹ تک بہتر رسائی اور ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
جام کمال خان نے دوحہ میں ورلڈ انویسٹمنٹ فورم کی سربراہ نان لی کولنز سے الگ ملاقات بھی کی جس میں علاقائی اقتصادی حالات، رابطہ کاری اور عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ ٹاسک فورس کے تازہ اجلاس میں کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری کی حتمی مالی منظوری کا اعلان نہیں ہوا؛ بنیادی پیش رفت ادارہ جاتی ورکنگ گروپس کو فعال کرنے اور اگلے مرحلے کے لیے شعبہ وار کام آگے بڑھانے سے متعلق ہے۔
