کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران فروخت کا دباؤ غالب رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 2.4 فیصد کمی کے ساتھ 162,375 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر انڈیکس نے ہفتے میں 4,045 پوائنٹس کھوئے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی اور اسٹیٹ بینک کی 26 اکتوبر کو متوقع مانیٹری پالیسی سے پہلے سرمایہ کاروں کی منافع خوری کو اہم عوامل قرار دیا۔

اے کے ڈی سکیورٹیز کے مطابق علاقائی سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ برینٹ خام تیل ہفتے کے دوران 6.4 فیصد بڑھ کر جمعے تک 114.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے بلند عالمی تیل قیمتیں درآمدی بل اور افراط زر کے امکانات سے متعلق خدشات کو بڑھاتی ہیں، جس کا اثر شرح سود کی توقعات اور حصص کی قدر بندی پر بھی پڑتا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے مطابق بینکاری، ٹیکنالوجی، انویسٹمنٹ بینکنگ، سیمنٹ اور پاور شعبے انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈالنے والوں میں شامل رہے۔ بینکوں نے مجموعی انڈیکس میں 925 پوائنٹس کی منفی شراکت کی، ٹیکنالوجی نے 512، انویسٹمنٹ بینکس نے 507، سیمنٹ نے 459 اور پاور سیکٹر نے 266 پوائنٹس کا دباؤ ڈالا۔

اوسط یومیہ کاروباری حجم 12.6 فیصد کم ہو کر 393 ملین حصص رہا، تاہم اوسط یومیہ تجارتی مالیت 7.3 فیصد بڑھ کر 69.7 ملین ڈالر ہوگئی۔ اسی دوران روپے نے ڈالر کے مقابلے میں معمولی 0.03 فیصد بہتری دکھائی اور 276.82 روپے پر بند ہوا۔ مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16 اکتوبر تک 26.83 ارب ڈالر بتائے گئے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں معمولی اضافہ اور کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی ہوئی۔

مارکیٹ کی آئندہ سمت کے لیے سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی فیصلے اور ستمبر سہ ماہی کے کارپوریٹ نتائج کو اہم سمجھ رہے ہیں۔ موجودہ ہفتہ وار کمی کسی ایک کاروباری دن کی حرکت نہیں بلکہ پورے ہفتے کی مجموعی کارکردگی ہے، اس لیے اگلے سیشنز میں شرح سود، عالمی خام تیل اور علاقائی سلامتی کی صورتحال میں تبدیلی سے رجحان دوبارہ بدل سکتا ہے۔