بنوں: کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے قریب ایک موٹر سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے پولیس کی گشتی وین کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا اتوار کی رات اس وقت ہوا جب پولیس موبائل معمول کے گشت پر علاقے سے گزر رہی تھی۔

پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد سڑک کنارے کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ پولیس وین قریب پہنچی تو دھماکا ہوا، جس سے گاڑی متاثر ہوئی۔ وین میں موجود تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ ایک طالب علم کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی، تاہم ابتدائی رپورٹ میں اس کی شناخت اور طبی حالت کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ تفتیشی اہلکاروں نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے تاکہ دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد، اسے نصب کرنے کے طریقے اور حملہ آوروں کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکے۔ رپورٹ سامنے آنے تک کسی گروہ کی جانب سے اس مخصوص حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی مصدقہ اطلاع نہیں تھی۔

اسی روز بنوں کے بکاخیل علاقے میں عارضی طور پر بے گھر افراد کے کیمپ کے ٹاور نمبر تین پر ایک کواڈکاپٹر کے ذریعے مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد گرائے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے میں تین اہلکار، ایاز، ابراہیم اور رحیم اللہ زخمی ہوئے اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

حکام نے دونوں واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ بنوں اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں دیسی ساختہ بم، فائرنگ اور کواڈکاپٹر کے ذریعے حملوں کے واقعات شامل ہیں۔ یہ صورتحال مقامی پولیس کے لیے گشت، چیک پوسٹوں اور حساس تنصیبات کے تحفظ کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

پندرہ اکتوبر کو اسی عمومی علاقے میں ڈسٹرکٹ سکیورٹی برانچ کے ہیڈ کانسٹیبل رقیب خان کو سرکلر روڈ کے قریب مسلم آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ تازہ دھماکے کے پس منظر میں اس سابقہ واقعے کا ذکر علاقے میں مسلسل سکیورٹی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم دونوں واقعات کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔

پولیس کی جاری تفتیش سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ موٹر سائیکل بم کس نے نصب کیا اور کیا پولیس وین ہی حملے کا مخصوص ہدف تھی۔ حکام نے کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے فرانزک اور دیگر شواہد کی جانچ جاری رکھنے کا کہا ہے۔