صوابی: خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں متعدد سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی خراب حالت نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر ہونے والی جانچ میں بعض تعلیمی عمارتوں کو خستہ حال یا استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ حکام پر مرمت اور متبادل انتظامات کے لیے اقدامات تیز کرنے کا دباؤ بڑھا ہے۔

سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں دراڑیں، کمزور چھتیں اور پرانے تعمیراتی ڈھانچے بارشوں، زلزلوں یا دیگر موسمی حالات کے دوران زیادہ خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں معمول کی تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنا طلبہ اور عملے کے لیے حفاظتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن عمارتوں کو تکنیکی طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے وہاں کلاسیں اس وقت تک نہ چلائی جائیں جب تک ضروری مرمت یا تعمیر نو مکمل نہ ہو۔

تعلیمی حکام کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ متاثرہ اسکولوں کے بچوں کی پڑھائی میں خلل کم سے کم رکھا جائے۔ اگر کسی عمارت کا استعمال روکنا پڑے تو متبادل کلاس رومز، قریبی اسکولوں میں عارضی انتظام یا دیگر محفوظ مقامات کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ قریب متبادل سرکاری تعلیمی ادارہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑ سکتا ہے۔

خستہ حال اسکول عمارتوں کا معاملہ صرف تعمیراتی مرمت تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی بجٹ، ترقیاتی ترجیحات اور نگرانی کے نظام سے بھی جڑا ہے۔ عمارتوں کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں معمولی خرابی وقت کے ساتھ بڑے تعمیراتی خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے بعد میں مرمت یا مکمل تعمیر نو کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔

والدین اور مقامی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اسکولوں کی سلامتی کے جائزے باقاعدگی سے ہونے چاہئیں اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کی فہرست کے ساتھ واضح ٹائم لائن بھی دی جانی چاہیے۔ اس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کن اداروں میں فوری مرمت، کن میں بڑے پیمانے پر بحالی اور کن میں مکمل نئی تعمیر کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا میں تعلیمی انفراسٹرکچر پر آبادی کے دباؤ، قدرتی آفات اور محدود وسائل کے اثرات طویل عرصے سے زیر بحث رہے ہیں۔ صوابی میں سامنے آنے والی صورتحال اس ضرورت کو دوبارہ نمایاں کرتی ہے کہ اسکول کی عمارت کو صرف تدریسی جگہ نہیں بلکہ بچوں کے لیے محفوظ عوامی انفراسٹرکچر سمجھ کر اس کی دیکھ بھال کی جائے۔

متعلقہ حکام کی جانب سے مرمت یا تعمیر نو کے لیے عملی اقدامات، فنڈز کے اجرا اور متبادل تدریسی انتظامات کی تفصیلات سامنے آنے سے یہ واضح ہوگا کہ متاثرہ طلبہ کو کتنی جلد محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔ فی الحال بنیادی ترجیح یہ ہے کہ کسی ایسی عمارت میں بچوں یا عملے کو نہ رکھا جائے جسے تکنیکی جانچ میں فوری خطرے کا حامل قرار دیا گیا ہو۔