اسلام آباد: ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مقدمے میں صحافی بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے انہیں 12 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ یہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت درج کیا گیا ہے اور اس میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی حالیہ تقرری سے متعلق سوشل میڈیا مواد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
بلال غوری کو اس سے قبل تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔ مدت مکمل ہونے پر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی ایجنسی نے مزید چھ روز کی تحویل مانگی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست مکمل طور پر منظور کرنے کے بجائے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کی۔
غوری کے وکیل عمران شفیق نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ادارہ مطلوبہ اشیا پہلے ہی تحویل میں لے چکا ہے۔ دفاع کے مطابق صحافی کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ این سی سی آئی اے کے پاس ہیں اور ادارے کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل ہے۔ وکیل نے عدالت میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ استغاثہ کو پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ غوری سے منسوب بیان کس بنیاد پر غلط قرار دیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دو مرحلہ جاتی تصدیق فعال ہونے کی وجہ سے لاگ اِن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بلال غوری نے بھی عدالت کو بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس، فون اور لیپ ٹاپ تفتیشی ادارے کے قبضے میں ہیں۔ عدالت نے ان دلائل کے بعد مزید دو دن کی جسمانی تحویل کی اجازت دی۔
ایف آئی آر ریاست کی مدعیت میں این سی سی آئی اے کے ایک اہلکار کے ذریعے پیکا کی دفعہ 20 اور 26-اے کے تحت درج کی گئی۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ غوری نے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری کے عمل اور حالات سے متعلق ایسا مواد اپ لوڈ اور پھیلایا جو تفتیشی ادارے کے مطابق غلط یا گمراہ کن تھا۔ دفاع نے ان الزامات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ اس مرحلے پر یہ الزامات مقدمے اور تفتیش کا حصہ ہیں؛ عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔




