لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک والدہ کو اس کے ایک سالہ بچے کے ساتھ متعلقہ عدالت کی علاقائی حدود سے باہر جانے سے روکنے اور سات لاکھ روپے کا ضمانتی مچلکہ جمع کرانے کی شرائط ختم کر دی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری ضابطہ کی دفعہ 491 کے تحت فوری اور عبوری نوعیت کی تحویل بحال کرتے ہوئے ایسی پابندیاں عائد کرنے کی قانونی گنجائش نہیں تھی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس اسد علی باجوہ نے والدہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے شیخوپورہ کی ماتحت عدالت کے حکم میں شامل متنازع شرائط کالعدم قرار دیں۔ ماتحت عدالت نے 10 اگست کو بچے کی تحویل والدہ کو واپس کرتے ہوئے اسے سات لاکھ روپے کا مقامی ضمانتی مچلکہ فراہم کرنے اور طبی ہنگامی صورت حال کے سوا بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر نہ لے جانے کا حکم دیا تھا۔

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں دفعہ 491 کے دائرہ اختیار اور گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت گارڈین کورٹ کے اختیارات میں فرق واضح کیا۔ عدالت کے مطابق دفعہ 491 کی کارروائی بنیادی طور پر مبینہ غیر قانونی یا نامناسب حراست سے رہائی اور فوری حالات میں عبوری تحویل کا بندوبست کرنے کے لیے ہے۔ مستقل یا طویل مدتی تحویل اور والدین کی نقل و حرکت سے متعلق تفصیلی شرائط گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

درخواست گزار والدہ اپنے والدین کے ساتھ ضلع حافظ آباد میں رہ رہی تھیں۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے دفعہ 491 کے محدود اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایسی شرائط عائد کیں جن کی قانون میں بنیاد موجود نہیں۔ بچے کے والد نے درخواست کی مخالفت کی اور شرائط کو قانونی قرار دینے کے ساتھ ہائیکورٹ میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا۔

جسٹس اسد علی باجوہ نے ان اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور قرار دیا کہ عائد کردہ شرائط دفعہ 491 کی نوعیت اور مقصد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ فیصلے کا اثر اس مخصوص عبوری تحویل کے حکم پر ہے اور یہ مستقل کسٹڈی کے تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اگر فریقین طویل مدتی تحویل، ملاقات یا بچے کے سفر سے متعلق مستقل انتظام چاہتے ہیں تو ایسے سوالات متعلقہ گارڈین کورٹ کے قانونی دائرہ اختیار میں طے کیے جا سکتے ہیں۔