اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور گیٹس فاؤنڈیشن کے اعلیٰ سطح وفد نے پاکستان میں انسانی سرمایہ، بچوں اور ماؤں کی صحت، غذائیت اور خواتین کی معاشی شرکت سے متعلق تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں اصلاحات کے ساتھ سماجی شعبے کی ترقی کو جوڑنے اور تکنیکی و علمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وفد میں گیٹس فاؤنڈیشن کی جینڈر ایکویلیٹی ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی اور گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ڈویژن کی عبوری صدر ڈاکٹر کلپنا کوچھر شامل تھیں۔ وزیر خزانہ نے فاؤنڈیشن کے پاکستان میں جاری تعاون کو سراہا اور کہا کہ بین الاقوامی تجربے، تکنیکی مہارت اور علم کے تبادلے سے ملک کی ترقیاتی ترجیحات میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر کلپنا کوچھر نے فاؤنڈیشن کی پاکستان میں بڑھتی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق توجہ انسانی سرمایہ، بچوں کی صحت، غذائیت، زچہ صحت اور خواتین کی معاشی شرکت پر ہے۔ جنوبی خیبرپختونخوا میں ایک پروگرام نقد معاونت، غذائی مدد، روزگار سے متعلق تربیت اور خواتین کے لیے شہری سہولت مراکز تک رسائی کو یکجا کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اس پروگرام سے رواں سال تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار خواتین اور چار لاکھ 50 ہزار بچوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ اعداد متوقع رسائی کے اہداف ہیں، انہیں مکمل شدہ نتائج یا تمام مستفید افراد کی تصدیق شدہ تعداد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پروگرام کی حقیقی کارکردگی کا جائزہ نفاذ، رسائی، صحت و غذائیت کے نتائج اور خواتین کی معاشی سرگرمی میں قابل پیمائش تبدیلیوں سے ہوگا۔ سرکاری بیان میں اس ملاقات کے نتیجے میں کسی نئی مالی گرانٹ کی حتمی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان کو غذائی قلت، ماں اور بچے کی صحت، خواتین کی افرادی قوت میں محدود شرکت اور انسانی سرمائے کی کمزور اشاریاتی صورتحال جیسے دیرینہ مسائل کا سامنا ہے۔ اسی لیے حکومت اور ترقیاتی شراکت دار ایسے پروگراموں پر زور دے رہے ہیں جو مالی معاونت کو صحت، غذائیت اور روزگار کی خدمات سے جوڑ سکیں۔ تازہ ملاقات نے انہی ترجیحات پر تعاون جاری رکھنے اور اسے مزید منظم کرنے کی سیاسی و ادارہ جاتی حمایت ظاہر کی ہے، جبکہ عملی نتائج آئندہ پروگراموں کے نفاذ اور آزادانہ پیمائش سے واضح ہوں گے۔




