لاہور: پاکستان میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے 13 افغان طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ان ہدایات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے جن کے تحت انہیں افغانستان واپس جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ درخواست گزاروں میں سات خواتین اور چھ مرد شامل ہیں اور انہوں نے وکیل اسد جمال کے ذریعے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔
درخواست گزار لاہور کے مختلف طبی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز شامل ہیں۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ انہیں پی ایم ڈی سی کی ہدایات کے بعد کالجوں سے نکالا گیا، جبکہ ان کے مطابق کونسل اور متعلقہ اداروں کے پاس اس انداز میں ان کی تعلیم ختم کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔
درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے اختیارات آئین، متعلقہ قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے دائرے میں استعمال ہونے چاہییں۔ کئی درخواست گزار ہائر ایجوکیشن کمیشن کے علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک طالبہ نیلوفر نیکزاد نے درخواست میں بتایا کہ وہ افغانستان میں دو سال میڈیکل تعلیم مکمل کر چکی تھیں مگر خواتین کی تعلیم پر طالبان کی پابندیوں کے بعد انہیں پڑھائی چھوڑنا پڑی تھی۔
طلبہ نے عدالت کو بتایا کہ اچانک فیصلے کے نتیجے میں بعض طلبہ کو ہاسٹل سے بھی نکلنا پڑا اور ان کی رہائش اور تعلیمی مستقبل غیر یقینی ہوگیا۔ انہوں نے پی ایم ڈی سی کی 31 جولائی اور یکم ستمبر کی ہدایات کو غیر قانونی، غیر آئینی اور بلااختیار قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ درخواستیں جسٹس خالد اسحاق کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کے نوٹیفکیشن میں پاکستانی میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کی تھی اور موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان طلبہ کو داخلہ یا پلیسمنٹ دینے سے بھی روکا تھا۔ وزارت صحت کے ایک اہلکار نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ دفتر خارجہ کا مؤقف رہا ہے کہ درست ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر موجود غیر ملکی شہری غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے کے تحت ڈی پورٹ کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے ابھی درخواست گزاروں کے دعووں یا پی ایم ڈی سی کی ہدایات کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔




