کراچی: پاکستان کسٹمز کے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے ایک انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی میں 212 کلوگرام چرس ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کارروائی 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب شروع ہوئی، جبکہ ضبطی اور قانونی کارروائی کی تفصیلات 10 ستمبر کو جاری کی گئیں۔
کسٹمز کے بیان کے مطابق سپرہائی وے چیک پوسٹ کی اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن ٹیم نے حسن اسکوائر انٹرچینج کے قریب لیاری ایکسپریس وے پر ایک مشتبہ ٹویوٹا پریمیو کو روکنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی رکنے کے بجائے آغا خان ہسپتال کی سمت فرار ہوئی اور تعاقب کے دوران نیشنل اسٹیڈیم سگنل کے قریب کسٹمز کی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی۔
سرکاری بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ تعاقب کے دوران مشتبہ معاون گاڑیوں سے کسٹمز ٹیم پر ہوائی فائرنگ کی گئی۔ اس دعوے کی تفصیل پریس ریلیز میں کسٹمز کے مؤقف کے طور پر دی گئی ہے اور دستیاب سرکاری بیان میں کسی ملزم کی شناخت، گرفتاری یا عدالتی نتیجے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے واقعے سے متعلق فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی عمل کے بعد ہوگا۔
کسٹمز کے مطابق مشتبہ گاڑی کو آغا خان ہسپتال سگنل کے قریب روک لیا گیا اور بعد میں اسے سپرہائی وے چیک پوسٹ منتقل کیا گیا۔ تفصیلی تلاشی کے دوران گاڑی کے ٹرنک سے 212 پیکٹ ملے جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً ایک کلوگرام بتایا گیا۔ حکام نے ان پیکٹوں میں موجود مادے کو چرس قرار دیتے ہوئے مجموعی مقدار 212 کلوگرام بتائی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ منشیات اور گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر کے اندراج اور دیگر قانونی تقاضے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ کسٹمز انفورسمنٹ نے کارروائی کو انسداد اسمگلنگ مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس مرحلے پر خبر کا مصدقہ حصہ سرکاری ادارے کی جانب سے ضبطی کا اعلان اور اس کی بیان کردہ تفصیلات ہیں؛ کسی فرد کے خلاف الزام ثابت ہونے یا سزا کا کوئی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔




