وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت پائیدار معاشی نمو کے لیے برآمدات کے فروغ کو ترجیح دے رہی ہے اور کاروباری برادری کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کی بنیاد پر پالیسی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ مسلسل ملاقاتیں ہوتی ہیں اور ان کی آرا اور مسائل کی روشنی میں حکومتی مداخلتیں ترتیب دی جاتی ہیں۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق حکومت کاروباری برادری کے خدشات دور کرنے اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے معاشی صورتحال پر حکومتی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے، معاشی نمو بتدریج رفتار پکڑ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بلند سطح تک پہنچے ہیں۔ یہ دعوے حکومتی معاشی بیانیے کا حصہ ہیں اور مختلف اشاریوں کی حتمی تشریح متعلقہ سرکاری اعداد و شمار اور آزاد معاشی جائزوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔
وزیر مملکت نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کو دی گئی ٹیکس رعایتوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازی میں برآمدی شعبے کی مسابقت اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے برآمدات بڑھانے کا ہدف ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب پائیدار بیرونی ادائیگیوں کے لیے اشیا اور خدمات کی برآمدی آمدن میں اضافہ اہم معاشی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
تقریب میں مشیر نجکاری محمد علی نے زراعت، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کو معاشی نمو کے اہم محرکات قرار دیا۔ انہوں نے ان شعبوں میں استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب میں بیان کیے گئے نکات کسی نئے برآمدی پیکیج یا مخصوص مالی مراعات کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مترادف نہیں؛ یہ حکومت کی ترجیحات اور پالیسی سمت سے متعلق بیان ہے، جس کے عملی نتائج آئندہ اقدامات، قواعد اور معاشی اعداد و شمار سے واضح ہوں گے۔
