کوئٹہ کے صنعتی زون میں پہلی ڈیجیٹل اسٹیل مل نے باقاعدہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق نئی صنعتی سہولت خودکار نظام کے ذریعے روزانہ 500 ٹن اسٹیل بارز، یعنی تعمیراتی سریا، تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلوچستان کے صنعتی شعبے میں یہ منصوبہ جدید خودکاری کے استعمال کے باعث نمایاں پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اسٹیل مل کے چیف ایگزیکٹو افسر امین اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمیوں کے تناظر میں مقامی سطح پر اسٹیل کی پیداوار فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پلانٹ کی پیداواری صلاحیت صوبے میں تعمیراتی مواد کی طلب پوری کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں پلانٹ کی جگہ کو کوئٹہ کے صنعتی زون کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور روزانہ 500 ٹن پیداوار کی صلاحیت انتظامیہ کی فراہم کردہ تفصیل ہے۔

ڈیجیٹل یا خودکار پیداواری نظام کا بنیادی فرق یہ ہے کہ پیداوار کے مختلف مراحل میں مشینری اور کنٹرول سسٹمز کے ذریعے عمل کی نگرانی اور آپریشن کیا جاتا ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری رپورٹ میں اس مخصوص مل کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی، سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، ملازمین کی تعداد، خام مال کے ذرائع یا سالانہ عملی پیداوار کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 500 ٹن یومیہ صلاحیت مکمل پیداواری حد ہے یا ابتدائی آپریشن میں حاصل ہونے والی حقیقی پیداوار۔

منصوبے کی معاشی اہمیت کا زیادہ واضح اندازہ آنے والے مہینوں میں پیداواری حجم، مقامی مارکیٹ میں فراہمی، توانائی کی دستیابی اور تعمیراتی شعبے کی طلب کے اعداد و شمار سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کوئٹہ کے صنعتی زون میں خودکار اسٹیل بار پلانٹ نے آپریشن شروع کر دیا ہے اور انتظامیہ نے اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت 500 ٹن بتائی ہے۔