اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔ ڈان کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے چیف جسٹس پاکستان اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی کی منظوری کے بعد ان تقرریوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ دونوں نامزد ارکان پارلیمان میں حکومتی بنچوں کی نمائندگی کریں گے۔

خبر کے مطابق کمیشن میں دو نشستیں اس وقت خالی ہوئی تھیں جب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ ن کے رکن آفتاب شیخ نے اپنے عہدوں سے استعفے دیے۔ بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی جبکہ رانا ثنا اللہ سینیٹ میں حکومتی نمائندگی سے متعلق نشستوں پر شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، جو قومی اسمبلی میں قائد ایوان ہیں، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو سینیٹ میں قائد ایوان ہیں، نے آئین کے آرٹیکل 175 اے کی متعلقہ شق کے تحت نامزدگیاں کیں۔

جوڈیشل کمیشن کا اگلا اجلاس 13 اکتوبر کو مقرر ہے۔ ڈان کے مطابق اس اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع سے متعلق معاملے پر غور کیا جانا ہے۔ یہ مجوزہ غور ہے؛ اسے کمیشن کا پہلے سے ہو چکا فیصلہ سمجھنا درست نہیں۔ نئی نامزدگیوں کے بعد کمیشن میں حکومتی پارلیمانی نمائندگی کی خالی نشستیں پُر ہو گئی ہیں اور آئندہ اجلاس میں نئی رکنیت کے ساتھ کارروائی ہونے کی توقع ہے۔

آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن کو وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی تقرری کے معاملات میں آئینی کردار حاصل ہے۔ کمیشن ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد کمیشن کی تشکیل میں پارلیمانی نمائندگی کا دائرہ تبدیل ہوا تھا، جس کے تحت حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو جگہ دی گئی۔

کمیشن کی ساخت میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے ساتھ وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور قانونی پیشے سے متعلق نمائندوں کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ نئی تقرریوں کی خبر بنیادی طور پر کمیشن کی رکنیت میں تبدیلی سے متعلق ہے، کسی مخصوص جج کی تقرری یا کسی عدالتی مقدمے کے فیصلے سے متعلق نہیں۔ رپورٹ کردہ نامزدگیوں اور آئندہ اجلاس کے ایجنڈے کے درمیان یہی امتیاز اہم ہے تاکہ ادارہ جاتی پیش رفت کو درست تناظر میں دیکھا جا سکے۔