بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اے آئی پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی اگلی دو دہائیوں میں بڑے معاشی اور سماجی خلل کا باعث بن سکتی ہے، حتیٰ کہ اگر ٹیکنالوجی کو نسبتاً کامیابی سے منظم بھی کیا جائے۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے یہ بات ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہی جسے جمعرات کو جاری کیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبیون میں انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گیٹس نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والی معیشت میں منتقلی کے دوران کچھ شعبے اور افراد فائدہ اٹھائیں گے جبکہ دوسرے نقصان میں رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق روزگار کی نوعیت، انسانوں کے معاشرتی کردار اور کام کی تقسیم پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً 20 سال کے عبوری دور کا ذکر کیا، مگر ساتھ واضح کیا کہ یہ کوئی قطعی مدت نہیں اور تکنیکی پیش رفت یا ترقی کی رفتار سست کرنے سے متعلق انسانی فیصلوں کے باعث یہ دور کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔

گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹکس میں ترقی مستقبل میں مشینوں کو بہت سا جسمانی کام کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ انہوں نے گھر تعمیر کرنے، خوراک اگانے اور بعض طبی کاموں تک کی مثالیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صلاحیتیں اشیا اور خدمات کی کمی کم کر سکتی ہیں، لیکن معاشرے ممکن ہے کچھ سرگرمیاں جان بوجھ کر انسانوں کے لیے محفوظ رکھیں، جن میں بچوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانا، فنون اور کھیل شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے صحت اور زراعت میں اے آئی کے ممکنہ فوائد کو بھی نمایاں کیا، تاہم ان کے مطابق حکومتیں اور معاشرے اس ٹیکنالوجی کی موجودہ رفتار کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ گیٹس نے زیادہ مضبوط حکومتی نگرانی اور سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات کے خلاف تکنیکی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا موقف تھا کہ اے آئی کمپنیوں کو اکیلے تمام خطرات کے انتظام کی ذمہ داری نہیں دی جا سکتی۔

یہ خیالات گیٹس کی ذاتی تشخیص اور مستقبل کے بارے میں تخمینہ ہیں، کوئی یقینی معاشی پیش گوئی نہیں۔ اے آئی کے روزگار پر اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر مختلف آرا موجود ہیں اور نتائج ٹیکنالوجی کی صلاحیت، قانون سازی، تعلیم و تربیت، سرمایہ کاری اور مختلف ملکوں کی پالیسیوں کے مطابق بدل سکتے ہیں۔

گیٹس نے مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا کہ انسانوں کے پاس یہ انتخاب موجود ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو کس سمت میں ڈھالا جائے۔ ان کے مطابق بہتر صورت حال میں بھی عبوری عرصہ غیر معمولی طور پر ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے، اس لیے پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ فوائد کے ساتھ روزگار، سلامتی اور سماجی اثرات سے متعلق خطرات کو بھی پیشگی پالیسی کا حصہ بنائیں۔