لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تفتیشی عملے کی شدید کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے مقدمات کے مقابلے میں دستیاب افرادی قوت ناکافی ہے۔ ان کے مطابق بعض تفتیشی افسران کے حصے میں تین سے چار ہزار تک کیسز آ رہے ہیں، ایسی صورتحال میں مؤثر تحقیقات ممکن نہیں رہتیں۔

این سی سی آئی اے کو ملک میں آن لائن فراڈ، ہراسانی، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، شناخت کی چوری، غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں اور دیگر سائبر جرائم کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈیجیٹل خدمات، سوشل میڈیا اور آن لائن ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ شکایات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نئی ایجنسی کی عملی صلاحیت پر دباؤ بڑھا ہے۔

محسن نقوی نے لاہور میں ایجنسی کے دفتر کے دورے کے دوران افسران سے ملاقات کی اور زیر التوا مقدمات، تفتیشی طریقہ کار اور افرادی قوت کی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم کے متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے صرف ادارہ قائم کرنا کافی نہیں بلکہ تربیت یافتہ تفتیش کار، ڈیجیٹل فرانزک ماہرین اور مناسب تکنیکی وسائل بھی ضروری ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اس معاملے میں مدد طلب کی ہے تاکہ ایجنسی کے لیے اضافی عملہ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کے اندر شکایات پر تیز رفتار کارروائی کی جائے اور شہریوں سے متعلق مقدمات کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔

سائبر کرائم تحقیقات میں روایتی پولیسنگ کے مقابلے میں مختلف مہارتیں درکار ہوتی ہیں، جن میں ڈیجیٹل شواہد محفوظ کرنا، آن لائن اکاؤنٹس اور مالی لین دین کا سراغ لگانا، پلیٹ فارمز سے قانونی طریقے سے معلومات حاصل کرنا اور فرانزک تجزیہ شامل ہے۔ افرادی قوت کی کمی اس پورے عمل کو سست کرسکتی ہے، خصوصاً جب ایک تفتیشی افسر کے پاس بیک وقت بہت بڑی تعداد میں شکایات ہوں۔

حکومت نے این سی سی آئی اے کو سائبر جرائم کے لیے مرکزی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے طور پر فعال کیا ہے، تاہم تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی منتقلی کے بعد صلاحیت سازی ابھی جاری ہے۔ اضافی بھرتیوں اور وسائل کی فراہمی کی حتمی سطح وزیراعظم اور متعلقہ حکومتی منظوریوں کے بعد واضح ہوگی۔