لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں افرادی قوت کی شدید کمی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 14 کروڑ آبادی والے پنجاب میں ایجنسی کے صرف 61 افسر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سائبر فراڈ اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کی بڑھتی شکایات کے مقابلے میں دستیاب تفتیشی عملہ ناکافی ہے، جس کے باعث کیسز کا بوجھ غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بعض تفتیشی افسران کے پاس ہزاروں کیسز آ جاتے ہیں اور ایسی صورت میں بروقت اور معیاری تحقیقات مشکل ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی سائبر کیسز میں فوری کارروائی ضروری ہوتی ہے کیونکہ رقم چند گھنٹوں یا دنوں میں مختلف اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ذرائع سے منتقل کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض شکایات میں مالی نقصان چند ہزار روپے سے لے کر کروڑوں روپے تک ہوتا ہے۔
محسن نقوی نے عوامی آگاہی مہم کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ شہری مشکوک کالز، جعلی آن لائن سرمایہ کاری، فشنگ لنکس، شناخت کی چوری اور مالی فراڈ کے طریقوں سے بہتر طور پر واقف ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف گرفتاریوں کے ذریعے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ڈیجیٹل احتیاط سے متعلق آگاہی بھی سائبر جرائم میں کمی کے لیے ضروری ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق حالیہ دس سے بارہ روز کے دوران کال سینٹرز سے منسلک کارروائیوں میں تقریباً 600 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بڑے مالی کیس کے ملزم کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا، تاہم ہر زیر تفتیش فرد کے بارے میں جرم ثابت ہونا عدالتی عمل سے مشروط ہے۔ ایک سرکاری ملازم کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قصور ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
این سی سی آئی اے کو سائبر جرائم کی بڑھتی نوعیت، ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ اور سرحد پار مالی و تکنیکی روابط جیسے پیچیدہ معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ محدود عملے کی موجودگی تفتیش کی رفتار اور شکایت کنندگان کو بروقت ریلیف دینے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان نے اس ادارہ جاتی خلا کو نمایاں کیا ہے، تاہم اضافی بھرتیوں یا وسائل کے مکمل منصوبے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
