اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات اور سیاسی مہمات میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین سے متعلق مجوزہ قواعد جاری کیے ہیں۔ مسودے میں ڈیپ فیک، مصنوعی آواز، گمراہ کن تصویری یا ویڈیو مواد اور AI سے تیار انتخابی پیغامات کے استعمال کے لیے نئی ذمہ داریاں تجویز کی گئی ہیں۔
ڈان کی 24 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے مسودے پر متعلقہ فریقوں اور عوام سے 20 نومبر تک آرا طلب کی ہیں۔ یہ قواعد ابھی حتمی قانون یا نافذ شدہ ضابطہ نہیں، بلکہ مشاورت کے لیے پیش کیا گیا مسودہ ہیں؛ موصول ہونے والی تجاویز کے بعد ان میں تبدیلی ممکن ہے۔
مجوزہ فریم ورک کا ایک اہم حصہ ایسے ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ مواد سے متعلق ہے جو کسی امیدوار، جماعت یا دوسرے انتخابی فریق کے بارے میں جھوٹا، گمراہ کن یا ہتک آمیز تاثر پیدا کرے۔ کمیشن نے AI کے ذریعے تیار یا نمایاں طور پر تبدیل کیے گئے انتخابی مواد کی واضح شناخت اور لیبلنگ کی ضرورت تجویز کی ہے تاکہ ووٹر یہ جان سکیں کہ وہ اصل ریکارڈنگ دیکھ رہے ہیں یا مصنوعی طور پر تخلیق شدہ مواد۔
مسودے میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے ساتھ میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے کردار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف مہماتی اشتہارات تک محدود نہیں رہی بلکہ خودکار پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، آواز کی نقل اور بڑے پیمانے پر مواد تیار کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ انتخابی ماحول میں ایسی ٹیکنالوجی رائے عامہ پر تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہے، خصوصاً جب مواد کی اصلیت فوری طور پر جانچنا مشکل ہو۔
الیکشن کمیشن کی تجویز پاکستان میں انتخابی سالمیت اور نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تعلق کو باقاعدہ ضابطے میں لانے کی کوشش ہے۔ تاہم قواعد کی مؤثر عمل داری کے لیے صرف پابندیاں کافی نہیں ہوں گی؛ AI سے تیار مواد کی شناخت، شکایات کے بروقت فیصلے، پلیٹ فارمز سے تعاون اور اظہار رائے کے قانونی تحفظ کے درمیان توازن بھی اہم ہوگا۔
چونکہ یہ قواعد ابھی مسودے کی سطح پر ہیں، اس لیے ان کی حتمی شقوں اور نفاذ کی تاریخ کے بارے میں فیصلہ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔ اس مرحلے پر انہیں نافذ شدہ انتخابی پابندیوں کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
