اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے وزیراعظم سے مدد طلب کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایجنسی کے لیے تقریباً 4,100 آسامیاں منظور شدہ ہیں لیکن اس وقت قریب 950 اہلکار دستیاب ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ این سی سی آئی اے کے موجودہ عملے میں تقریباً 500 افسران وہ ہیں جو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ سے منتقل ہوئے، جبکہ باقی نئی بھرتیوں کے ذریعے شامل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود عملے کے باعث سائبر کرائم سے متعلق شکایات اور تحقیقات کے بڑھتے بوجھ سے نمٹنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
نقوی نے کہا کہ وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ ایجنسی کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے میں معاونت کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سائبر جرائم کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے اور تکنیکی مہارت رکھنے والے اہلکاروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ایسے مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد، آن لائن مالی لین دین، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مختلف مواصلاتی ذرائع کی تکنیکی جانچ اہم ہوتی ہے۔
این سی سی آئی اے کو وفاقی حکومت نے سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک الگ ادارے کے طور پر قائم کیا تھا، جس نے ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم ونگ کے کئی فرائض سنبھالے۔ ادارے کے دائرہ کار میں آن لائن فراڈ، ہراسانی، شناختی معلومات کے غلط استعمال اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کی تحقیقات شامل ہیں۔ تاہم منظور شدہ اور موجودہ افرادی قوت کے درمیان بڑا فرق ادارے کی عملی صلاحیت کے لیے ایک اہم انتظامی چیلنج ہے۔
وزیر داخلہ کی جانب سے ایوان میں دیے گئے اعداد حکومتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عملے میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے مدد طلب کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خالی آسامیاں فوری طور پر پُر ہو گئی ہیں؛ بھرتی، بجٹ، تربیت اور تعیناتی کے مراحل الگ سے مکمل ہونا ہوں گے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات اور آن لائن مالی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر جرائم سے نمٹنے کی صلاحیت کی اہمیت بھی بڑھی ہے۔ این سی سی آئی اے کی مؤثر کارکردگی کا انحصار صرف تعداد بڑھانے پر نہیں بلکہ فرانزک مہارت، جدید تکنیکی وسائل، تفتیشی معیار اور شکایات کے بروقت ازالے کے نظام پر بھی ہوگا۔
