اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے متعلق تقریباً 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 140,488 سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو فلاحی ادائیگیاں ملنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ وزارت تخفیف غربت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان ادائیگیوں اور دیگر نشاندہی شدہ معاملات میں ریکوری کی شرح رپورٹ شدہ رقم کے تین فیصد سے بھی کم رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کو رقوم ملنے کا معاملہ پہلی بار 2019 میں سامنے آیا تھا، لیکن اس کے بعد بھی کئی برس تک بعض ادائیگیاں جاری رہیں۔ اس صورتحال نے مستحقین کی شناخت، ڈیٹا کی تصدیق اور مختلف سرکاری ریکارڈز کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام پر سوالات پیدا کیے ہیں۔ بی آئی ایس پی بنیادی طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

حکام اب چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی مزید جانچ کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ پروگرام سے ادائیگیاں اہلیت کے قواعد کے مطابق ہوئی تھیں یا نہیں۔ کسی فرد کا نام جانچ کے دائرے میں آنا بذات خود بدعنوانی یا جرم کا حتمی ثبوت نہیں؛ ہر معاملے میں اہلیت، وصول شدہ رقم اور متعلقہ وقت کے قواعد کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔

تقریباً 24 ارب روپے کی رقم بھی رپورٹ شدہ مالی بے ضابطگیوں کا مجموعی تخمینہ ہے، اس لیے اسے تمام رقم کے چوری یا حتمی طور پر ثابت شدہ نقصان کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ سرکاری تحقیقات، آڈٹ اور ریکوری کے عمل سے مختلف زمروں کی ذمہ داری اور حتمی مالی اثر واضح ہوگا۔

یہ معاملہ سماجی تحفظ کے بڑے پروگراموں میں ڈیٹا میچنگ اور مسلسل beneficiary verification کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ اگر سرکاری ملازمین، پنشن ریکارڈ اور فلاحی پروگرام کے ڈیٹا کو بروقت مربوط کیا جائے تو نااہل وصول کنندگان کی شناخت جلد ہوسکتی ہے اور محدود وسائل زیادہ درست طور پر مستحق گھرانوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔