اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز نے گاڑیوں کی اوورلوڈنگ پر جرمانوں اور سزاؤں میں اضافے کی تجاویز منظور کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق مسودہ قانونی ترامیم کو بھی آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت 23 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں متعدد قانونی اور انتظامی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے قومی شاہراہوں پر مقررہ وزن سے زیادہ مال لے جانے والی گاڑیوں کے لیے جرمانوں میں اضافے کی سفارشات منظور کیں۔ اوورلوڈنگ سڑکوں اور پلوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، گاڑیوں کے بریک اور کنٹرول کی کارکردگی متاثر کرنے اور ٹریفک سیفٹی کے خطرات بڑھانے سے منسلک مسئلہ ہے۔ منظور شدہ تجاویز کو متعلقہ قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا، اس لیے کمیٹی کی منظوری کو ہر نئی سزا کے فوری نفاذ کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اجلاس میں پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق مجوزہ ترامیم بھی منظور کی گئیں۔ ان ترامیم کی عملی مالی شرحیں اور اطلاق حتمی قانونی متن اور متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشنز سے طے ہوں گے۔ کمیٹی نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس سینیارٹی رولز 2026 کو بھی اصولی منظوری دی۔

کاروباری ضابطہ کاری کے شعبے میں آسان کاروبار ٹیکنیکل یونٹ اور پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام اور کام کرنے سے متعلق قواعد کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ حکومت ان ادارہ جاتی اقدامات کو کاروباری ضوابط کی فہرست سازی، غیر ضروری تقاضوں کی شناخت اور ریگولیٹری اصلاحات کے وسیع پروگرام سے جوڑ رہی ہے۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ منظور شدہ مسودے اور سفارشات اب متعلقہ فورمز کے سامنے مزید قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے پیش ہوں گی، جہاں حتمی متن، نفاذ کی تاریخ اور عملی طریقہ کار واضح کیا جائے گا۔