کراچی میں ایم پاکس سے متاثرہ ایک شیرخوار بچہ دورانِ علاج انتقال کر گیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بچے میں بیماری کی تشخیص کے بعد اسے طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا، تاہم اس کی حالت بگڑنے پر جانبر نہ ہو سکا۔ حکام نے واقعے کے بعد بیماری کی نگرانی اور مشتبہ مریضوں کی بروقت شناخت پر زور دیا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچے کو جلد پر مخصوص دانوں اور دیگر علامات کے بعد طبی مرکز لایا گیا تھا، جہاں تشخیصی عمل کے نتیجے میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی۔ بچے کی عمر اور طبی حالت کے باعث اسے زیادہ خطرے والے مریضوں میں شمار کیا گیا۔ حکام نے اس کے قریبی رابطوں سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ممکنہ علامات کی نگرانی کا عمل شروع کیا۔
ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ جلد یا جسمانی رطوبتوں اور آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ بیماری کی علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز میں سوجن اور جلد پر دانے یا زخم شامل ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تر مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم کم عمر بچوں، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور بعض دیگر مریضوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
سندھ کے صحت حکام نے اسپتالوں اور طبی مراکز کو انفیکشن کنٹرول کے ضوابط پر عمل، مشتبہ کیسز کی فوری اطلاع اور ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ رابطوں کی نگرانی کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ متاثرہ مریض کے قریب رہنے والے افراد میں بیماری کی علامات تو پیدا نہیں ہو رہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں بروقت طبی مشورہ یا ٹیسٹنگ فراہم کی جا سکے۔
حکام نے اس ایک کیس کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی تصدیق نہیں کی۔ وبائی صورتحال کا تعین مجموعی کیسز، لیبارٹری نتائج اور رابطوں کی نگرانی سے کیا جاتا ہے۔ اس لیے کسی ایک موت کو شہر بھر میں وبا کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ محکمہ صحت کی آئندہ اپ ڈیٹس سے کیسز کی تعداد اور وائرس کی گردش سے متعلق زیادہ واضح تصویر سامنے آئے گی۔
طبی ماہرین عمومی طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ غیرمعمولی جلدی دانوں، بخار یا ایم پاکس سے مطابقت رکھنے والی علامات کی صورت میں خود تشخیص کے بجائے طبی مرکز سے رابطہ کیا جائے۔ متاثرہ یا مشتبہ مریض کے ساتھ غیرضروری قریبی رابطے سے گریز اور صحت حکام کی ہدایات پر عمل بیماری کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
