پاکستان ریلوے نے حالیہ مہینوں میں ٹرین حادثات اور ڈی ریلمنٹ کے واقعات کے بعد ملک بھر میں 31 دسمبر 2026 تک آپریشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اس مدت کے دوران محکمے کی توجہ مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے محفوظ آپریشن، خراب رولنگ اسٹاک کی مرمت، پٹریوں اور سگنلنگ کے نقائص کی نشاندہی اور فیلڈ نگرانی بڑھانے پر مرکوز رہے گی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی 24 اکتوبر سے نافذ ہوئی اور اس کے تحت میڈیکل رخصت کے سوا افسران اور متعلقہ عملے کی چھٹیاں اور ہفتہ وار تعطیلات محدود کر دی گئی ہیں۔ آپریشنز سے وابستہ حکام کو فیلڈ میں موجود رہ کر ٹرینوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سرکاری دوروں کے لیے ریلوے افسران کو فضائی سفر یا سرکاری گاڑیوں کے بجائے ٹرین استعمال کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ وہ عملی حالات کا براہ راست جائزہ لے سکیں۔
وزیر ریلوے نے سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز کو روزانہ پیش رفت رپورٹ وزارت کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سیفٹی شعبے کے سربراہ سے بھی روزانہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 1,546 کوچز اور ویگنوں کی حالت کا تجزیہ مکمل ہو چکا ہے اور باقی تقریباً تین ہزار یونٹس کا معائنہ 10 نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ خراب یا بریک کے مسائل رکھنے والی کوچز اور مال بردار ویگنوں کو 31 دسمبر تک قابلِ استعمال بنانے یا سروس سے ہٹانے پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کوچز، ویگنوں اور انجنوں کے لیے پرزہ جات، جن میں ہزاروں بریک سلنڈر بھی شامل ہیں، پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ مقامی ورکشاپس کو قابلِ تیاری پرزے خود بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
رپورٹ میں خراب پٹریوں، ناقص کوچز اور ویگنوں، دستی پوائنٹ سسٹم، انسانی غلطی، ناکافی دیکھ بھال اور وسائل کی کمی کو حادثات کے اہم اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔ حالیہ ملتان حادثے سمیت متعدد واقعات نے ریلوے سیفٹی پر سوالات بڑھائے ہیں۔ اعلان کردہ ایمرجنسی کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ روزانہ نگرانی، مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو مقررہ مدت میں کس حد تک دور کیا جاتا ہے۔

