کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے متعلقہ حکام کو شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور مقررہ مدت میں عوامی جگہوں سے غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ ہدایات کا مقصد سڑکوں، فٹ پاتھوں اور کے ایم سی کے زیر انتظام مقامات پر شہری آمدورفت اور عوامی استعمال کی جگہ بحال کرنا بتایا گیا ہے۔

کراچی میں تجاوزات کا مسئلہ کئی دہائیوں سے شہری انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج رہا ہے۔ فٹ پاتھوں، سڑکوں، نالوں اور سرکاری زمین پر مختلف نوعیت کی تعمیرات یا تجارتی استعمال ٹریفک، پیدل چلنے والوں، نکاسی آب اور ہنگامی خدمات کی رسائی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار سے وابستہ چھوٹے کاروبار اور قانونی ملکیت کے تنازعات کارروائی کو سماجی اور قانونی طور پر پیچیدہ بھی بناتے ہیں۔

میئر کی ہدایت کے بعد اینٹی انکروچمنٹ محکمے اور متعلقہ بلدیاتی یونٹس کو مقامات کی نشاندہی، نوٹس اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوگی۔ کسی بھی مخصوص جگہ پر انہدام یا سامان ضبط کرنے کی کارروائی متعلقہ قانونی اختیار، ریکارڈ اور نوٹس کی شرائط کے مطابق ہونی چاہیے، خصوصاً جہاں ملکیت یا لیز سے متعلق تنازع موجود ہو۔

شہر میں تجاوزات کے خلاف ماضی میں بھی متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں، لیکن مستقل نتیجے کے لیے کارروائی کے بعد دوبارہ قبضے کو روکنا، فٹ پاتھ اور عوامی جگہوں کا انتظام بہتر کرنا اور مختلف شہری اداروں کے درمیان رابطہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کراچی میں زمین اور سڑکوں کی نگرانی کئی وفاقی، صوبائی، بلدیاتی اور کنٹونمنٹ اداروں میں تقسیم ہونے کے باعث jurisdiction بھی اہم مسئلہ ہے۔

تجاوزات ہٹانے کے اقدامات میں انسانی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ کم آمدنی والے ریڑھی بان یا چھوٹے کاروبار اگر عوامی راستوں پر کام کرتے ہیں تو شہری نظم کے ساتھ ان کے روزگار کے متبادل انتظام پر بھی پالیسی بحث ہوتی ہے۔ تاہم مستقل تعمیرات، راستے بند کرنے یا سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے معاملات الگ قانونی نوعیت رکھتے ہیں۔

میئر کی ڈیڈ لائن انتظامی ہدایت ہے؛ اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ مقررہ مدت میں کتنے مقامات پر قانونی اور پائیدار طور پر راستے بحال ہوتے ہیں اور دوبارہ تجاوزات روکنے کے لیے کیا نگرانی قائم کی جاتی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں کارروائی کا دائرہ کے ایم سی کے اختیار اور متعلقہ اداروں کے تعاون کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔