لاہور: پاکستان ریلوے نے مسلسل ٹرین حادثات اور ڈی ریلمنٹ کے واقعات کے بعد 31 دسمبر تک ملک بھر میں آپریشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق وزیر ریلوے حنیف عباسی نے افسران اور متعلقہ عملے کو سال کے اختتام تک مسافر اور مال بردار آپریشن میں موجود خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ طبی رخصت کے سوا عمومی چھٹیوں اور ہفتہ وار تعطیلات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

حکام کو فیلڈ میں ٹرین آپریشن کی نگرانی کرنے اور سرکاری دوروں کے لیے فضائی یا سرکاری گاڑیوں کے بجائے ریل استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز اور سیفٹی ونگ سے روزانہ رپورٹ طلب کی جائے گی تاکہ مرمت، معائنے اور حفاظتی اقدامات کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی ہو سکے۔ وزیر ریلوے کے مطابق اس انتظام کا مقصد طویل عرصے سے جمع مرمتی بیک لاگ ختم کرنا اور خراب رولنگ اسٹاک کو محفوظ آپریشن کے قابل بنانا ہے۔

ریلوے حکام نے 1,546 کوچز اور ویگنوں کی حالت کا تجزیہ مکمل کر لیا ہے جبکہ باقی تقریباً تین ہزار یونٹس کا معائنہ 10 نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایسے مسافر کوچز اور مال بردار ویگن جو خراب یا بریک کے بغیر ہیں انہیں 31 دسمبر تک سروس سے نکال کر مکمل طور پر درست کرنے کا منصوبہ ہے۔ کوچز، ویگنوں اور انجنوں کے لیے پرزوں کی فراہمی بھی شروع ہو چکی ہے، جن میں ہزاروں بریک سلنڈر شامل ہیں۔

وزیر ریلوے نے ورکشاپس کو ہدایت کی ہے کہ مقامی طور پر تیار کیے جا سکنے والے پرزے خود بنائے جائیں اور کنکریٹ و لکڑی کے سلیپرز کی ضرورت نومبر کے آخر تک پوری کی جائے۔ حالیہ مہینوں میں متعدد حادثات اور ڈی ریلمنٹ رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام نے خستہ پٹریوں، ناقص کوچز و ویگنوں، دستی پوائنٹ نظام، انسانی غلطی، ناکافی دیکھ بھال اور محدود وسائل کو اہم خطرات میں شمار کیا ہے۔

ایمرجنسی اقدامات کی کامیابی کا انحصار صرف چھٹیاں منسوخ کرنے پر نہیں بلکہ معائنے کے نتائج کے مطابق بروقت مرمت، حفاظتی معیار کی نگرانی اور پرانے انفراسٹرکچر کی خامیوں کے مستقل حل پر ہوگا۔