راولپنڈی: پنجاب حکومت نے صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور متعدد دوسری سرکاری و نجی شخصیات کے ساتھ مستقل پولیس اسکواڈ تعینات رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے بعد پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر ساجد ظفر ڈال کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں متعلقہ حکام کو نئی پالیسی سے آگاہ کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی، پارلیمانی سیکرٹری، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور پنجاب اسمبلی کے ارکان مستقل پولیس escort اپنے ساتھ نہیں رکھ سکیں گے۔ پابندی کا دائرہ سرکاری اہلکاروں اور نجی افراد تک بھی بڑھایا گیا ہے، یعنی مستقل بنیاد پر پولیس نفری مختص کرنے کا موجودہ طریقہ محدود کیا جا رہا ہے۔

فیصلے کا بنیادی اثر پنجاب پولیس کی نفری کے استعمال اور وی آئی پی سکیورٹی انتظامات پر پڑے گا۔ مستقل اسکواڈ کے بجائے خطرے اور ضرورت کے مطابق سکیورٹی فراہم کرنے کے انتظامات متعلقہ قواعد اور حکام کی منظوری کے تابع رہیں گے۔ دستیاب نوٹیفکیشن میں انفرادی خطرے کے مخصوص کیسز کے لیے تفصیلی طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا، اس لیے ایسے معاملات میں متعلقہ سکیورٹی اداروں کی الگ assessment اہم ہوگی۔

صوبے میں پولیس نفری امن و امان، جرائم کی روک تھام، ٹریفک اور اہم تنصیبات سمیت متعدد ذمہ داریوں پر مامور ہوتی ہے۔ مستقل وی آئی پی اسکواڈز کے خاتمے کا فیصلہ اس بحث کے تناظر میں اہم ہے کہ محدود پولیس وسائل کو عمومی قانون نافذ کرنے کی ذمہ داریوں اور شخصی سکیورٹی کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے۔ حکومت نے اس اقدام کو صوبائی سطح پر مستقل پولیس escort کے استعمال کو محدود کرنے کی واضح انتظامی ہدایت کی صورت دی ہے۔

نوٹیفکیشن کے نفاذ کے بعد متعلقہ پولیس یونٹس اور انتظامی اداروں کو ان شخصیات کے ساتھ موجود مستقل اسکواڈز کی تعیناتی کا جائزہ لینا ہوگا جو نئی پابندی کے دائرے میں آتی ہیں۔ کسی مخصوص فرد کو حقیقی سکیورٹی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں عارضی یا خطرے پر مبنی حفاظتی انتظامات کا فیصلہ موجودہ قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت کیا جا سکتا ہے، تاہم رپورٹ میں ایسی استثنائی منظوریوں کی کوئی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔

یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس وسائل کے استعمال میں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ضلعی اور صوبائی پولیس حکام نوٹیفکیشن کو کس طرح نافذ کرتے ہیں اور سکیورٹی خطرات کی جانچ کے لیے کیا معیار اختیار کیا جاتا ہے۔ فی الحال واضح حکم یہی ہے کہ عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر مستقل پولیس اسکواڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔