لوئر دیر/باجوڑ: ملاکنڈ ڈویژن کے حکام نے سرکاری تعلیم اور صحت کے اداروں میں مبینہ ’گھوسٹ‘ اور طویل عرصے سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا کی زیر صدارت اجلاس کے بعد لوئر دیر کے محکمہ تعلیم نے اسکول سربراہان کو عملے کی حاضری کی تصدیق اور غیرمجاز یا ضرورت کی بنیاد پر کیے گئے بعض تبادلوں اور ڈیٹیلنگ کے احکامات منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کی۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر مشتاق احمد نے مرد و خواتین پرنسپلز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن افسران کو ہدایات پر فوری عمل کرنے کا کہا۔ حکم میں خبردار کیا گیا کہ تعمیل نہ کرنے والے ادارہ سربراہان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوسکتی ہے۔ اجلاس میں ڈویژن کے ضلعی انتظامی افسران، محکمہ تعلیم و صحت کے سربراہان اور مانیٹرنگ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس سے متعلق ذرائع کے مطابق کمشنر نے سرکاری اخراجات کے مقابلے میں تعلیم اور صحت کی خدمات کے نتائج بہتر بنانے پر زور دیا اور اساتذہ کی غیرحاضری اور گھوسٹ ملازمین کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی۔ اسکول پرنسپلز کو روزانہ حاضری یقینی بنانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران کو فیلڈ دوروں اور نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔

اسکول سربراہان سے ایسے سرٹیفکیٹ بھی طلب کیے گئے ہیں جن میں تصدیق ہو کہ ان کے ادارے میں کوئی گھوسٹ ملازم کام نہیں کر رہا۔ اسی طرح روزانہ حاضری اور نگرانی کی رپورٹس ضلعی تعلیمی حکام کو بھیجنے کا نظام مضبوط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بے قاعدگی سامنے آنے پر فوری کارروائی کی جاسکے۔

باجوڑ میں بھی ڈپٹی کمشنر عدنان فرید آفریدی کی ہدایات کے بعد صحت اور تعلیم کے محکموں نے مبینہ گھوسٹ اور طویل غیر حاضر ملازمین کی فہرستیں مرتب کرنا شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر شکایات نچلے گریڈ کے ملازمین اور بعض اساتذہ سے متعلق ہیں، تاہم اس وقت ایسے ملازمین کی حتمی تعداد سرکاری طور پر دستیاب نہیں۔ اس لیے گھوسٹ ملازمین سے متعلق انفرادی الزامات کو محکمانہ جانچ اور قانونی کارروائی سے پہلے ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔