اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ریاستی اخراجات کم کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو نسبتاً مختصر بنانے کے لیے وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت اداروں کی رائٹ سائزنگ کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ اس عمل میں ایسے محکموں اور اداروں کا جائزہ شامل ہے جن کے کام ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، جن کی افادیت محدود ہوچکی ہے یا جن کی ذمہ داریاں کسی دوسرے سرکاری ادارے کو منتقل کی جاسکتی ہیں۔
حکومت کے مطابق رائٹ سائزنگ کا مقصد محض ملازمین کی تعداد کم کرنا نہیں بلکہ وفاقی انتظامیہ میں ذمہ داریوں کی تکرار ختم کرنا، فیصلہ سازی آسان بنانا اور غیرضروری جاری اخراجات محدود کرنا ہے۔ مختلف وزارتوں کے ماتحت اداروں کو ضم کرنے، ختم کرنے، نجی شعبے کے حوالے کرنے یا صوبوں کو منتقل کرنے کے آپشنز ان کے قانونی مینڈیٹ اور عملی ضرورت کے مطابق دیکھے جارہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت مالی نظم اور سرکاری شعبے کے حجم میں کمی کو معاشی اصلاحات کے وسیع پروگرام کا حصہ قرار دیتی ہے۔ وفاقی بجٹ پر پنشن، قرضوں کی خدمت اور انتظامی اخراجات کے دباؤ کے باعث حکومت ایسے شعبوں کی شناخت کرنا چاہتی ہے جہاں خدمات متاثر کیے بغیر اخراجات میں کمی ممکن ہو۔
رائٹ سائزنگ کے فیصلوں کا ملازمین پر اثر ہر ادارے کے معاملے میں مختلف ہوسکتا ہے۔ کسی محکمے کے انضمام یا خاتمے کا مطلب لازماً تمام ملازمین کی فوری برطرفی نہیں ہوتا؛ بعض صورتوں میں عملے کی منتقلی، خالی آسامیوں کا خاتمہ، رضاکارانہ علیحدگی یا قانونی سروس قواعد کے تحت دوسرے انتظامات اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص ملازم یا ادارے کے مستقبل کے بارے میں حتمی نتیجہ متعلقہ نوٹیفکیشن کے بغیر اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت کو اس پروگرام میں انتظامی اور قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ متعدد ادارے پارلیمانی قوانین، قواعد یا مخصوص سروس ڈھانچوں کے تحت قائم ہیں۔ عملی بچت کا حجم اسی وقت واضح ہوگا جب منظور شدہ سفارشات نافذ ہوں اور بجٹ میں ان کے اثرات ظاہر ہوں۔ موجودہ منظوری اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے کا انتظامی قدم ہے، جبکہ ہر وزارت یا ادارے سے متعلق تفصیلی تبدیلیاں الگ فیصلوں اور نوٹیفکیشنز کے ذریعے سامنے آئیں گی۔
