اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ سرحد پار موجود عسکریت پسند گروہوں اور ان کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بغیر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد اور وسیع تر علاقائی امن متاثر ہوتا رہے گا۔
پاکستانی حکام گزشتہ کئی برس سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک عناصر کی افغانستان میں موجودگی کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ کابل میں طالبان حکام عمومی طور پر اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ وہ کسی گروہ کو دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے ان متضاد دعوؤں کے باعث معاملہ سفارتی اور سکیورٹی تعلقات میں بنیادی تنازع بن چکا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی منصوبہ بندی یا سہولت افغانستان میں موجود عناصر سے جڑی رہی ہے اور اس حوالے سے کابل کو شواہد بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ افغان طالبان حکومت کی جانب سے ماضی میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان اپنے داخلی سکیورٹی مسائل کا حل خود تلاش کرے اور افغانستان کو مورد الزام نہ ٹھہرائے۔ ان دعوؤں کی نوعیت متنازع ہے، اس لیے ہر مخصوص حملے کی ذمہ داری الگ تفتیش اور قابل تصدیق شواہد سے طے ہوتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان طویل اور دشوار گزار سرحد، لوگوں کی آمدورفت، تجارت اور افغان مہاجرین کے مسائل بھی سکیورٹی تنازع کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ سرحدی بندش یا کشیدگی کا فوری اثر دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ سامان اور سرحدی آبادیوں پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے سفارتی رابطہ برقرار رکھنا دونوں طرف کے معاشی مفاد میں بھی ہے۔
پاکستان نے اپنے تازہ موقف میں مسئلے کو افغان عوام کے خلاف تنازع کے بجائے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں اور کابل کی ذمہ داری سے جوڑا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ توقع بھی بنیادی ہے کہ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
یہ بیان کسی نئے فوجی اقدام یا سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کے مترادف نہیں ہے۔ فی الحال پاکستان کی جانب سے بنیادی مطالبہ عملی انسداد دہشت گردی اقدامات کا ہے۔ آنے والے رابطوں میں پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں حکومتیں سکیورٹی شکایات، سرحدی انتظام اور عسکریت پسند گروہوں سے متعلق قابل عمل طریقہ کار پر کس حد تک اتفاق کرتی ہیں۔
