اٹلانٹا: امریکہ اور کینیڈا نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے ذریعے اناج، توانائی اور تجارتی جہاز رانی کو حملوں سے محفوظ بنانے کی تجویز پر بین الاقوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ معاملہ جی 20 وزرائے خارجہ کے اٹلانٹا اجلاس کے دوران زیر بحث آیا، جہاں یوکرین جنگ کے عالمی خوراک اور توانائی کی سپلائی پر اثرات کم کرنے کے ممکنہ راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ترکی اور بھارت سمیت مختلف فریقوں کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ زیر غور تصور مکمل جنگ بندی یا روس یوکرین جنگ کے سیاسی تصفیے کے بجائے محدود دائرے کا انتظام ہے، جس کا مقصد بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں، ان کے عملے اور اناج و توانائی کی ترسیل کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بتایا کہ انہوں نے یوکرین اور بھارت کے نمائندوں کے ساتھ اس تجویز پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق ایسے ممالک جن کی خوراک اور توانائی کی ضروریات بحیرہ اسود کی تجارت سے متاثر ہوتی ہیں، جہاز رانی اور عملے کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یوکرین کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے ایک ممکنہ انتظام کا بھی ذکر ہوا، خاص طور پر موسم سرما کے تناظر میں۔
تاہم کینیڈین وزیر خارجہ کے مطابق روس نے ابھی اس نوعیت کے انتظام پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اس لیے محدود جنگ بندی کی تجویز کو طے شدہ معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ماسکو اور کیف کے درمیان بنیادی سیاسی و سکیورٹی اختلافات بدستور موجود ہیں اور کسی بھی عملی سمجھوتے کے لیے دونوں فریقوں کی واضح رضامندی ضروری ہوگی۔
بحیرہ اسود یوکرین اور روس دونوں کی زرعی برآمدات کے لیے اہم راستہ ہے۔ جنگ کے دوران بندرگاہوں، جہازوں اور توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات نے عالمی منڈی میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ اسی وجہ سے ترکی، بھارت، مصر اور دیگر درآمدی ممالک کے لیے محفوظ جہاز رانی کا معاملہ براہ راست معاشی اہمیت رکھتا ہے۔
جی 20 اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت کے باوجود یوکرین جنگ پر وسیع اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ امریکی اور کینیڈین حکام نے سفارتی رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، مگر کسی فوری جامع امن معاہدے کی توقع ظاہر نہیں کی۔ محدود بحیرہ اسود جنگ بندی کی تجویز اب سفارتی مشاورت کے مرحلے میں ہے اور اس کی شکل، مدت، نگرانی اور نفاذ کے طریقہ کار پر کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا۔
