اٹلانٹا: جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اہم بین الاقوامی معاملات پر مشترکہ اتفاق رائے قائم کیے بغیر ختم ہو گیا، جس سے یوکرین جنگ، عالمی سلامتی اور بڑی طاقتوں کے درمیان جاری اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اجلاس کے بعد کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان بعض بنیادی معاملات پر فاصلے برقرار رہے اور اس مرحلے پر مشترکہ مؤقف تشکیل نہیں پا سکا۔

اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت بھی توجہ کا مرکز رہی۔ یوکرین جنگ کے پس منظر میں متعدد مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے حامی ہیں، جبکہ جی 20 کے دیگر ارکان سفارتی رابطے جاری رکھنے اور جنگ کے معاشی و انسانی اثرات محدود کرنے پر زور دیتے ہیں۔ بعض وزرائے خارجہ نے روایتی گروپ تصویر میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا، جسے روس کی موجودگی پر سیاسی اختلاف کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔

روبیو نے روسی ہم منصب کے ساتھ رابطے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے بات چیت کے ذرائع کھلے رکھنا ضروری ہے۔ تاہم امریکی حکام نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کسی جامع امن معاہدے پر فوری پیش رفت ہو گئی ہے۔ ماسکو اور کیف کے بنیادی مطالبات میں اب بھی نمایاں فرق موجود ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی فارمولے پر اتفاق سامنے نہیں آیا۔

اجلاس کے دوران بحیرہ اسود میں جہاز رانی، اناج اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کے لیے محدود جنگ بندی کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ امریکہ، کینیڈا، ترکی، بھارت اور بعض دیگر ممالک اس نوعیت کے انتظام میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، لیکن ایسی تجویز مکمل جنگ بندی یا سیاسی تصفیے کا متبادل نہیں ہوگی۔ اس کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں، عملے اور خوراک و توانائی کی بین الاقوامی سپلائی کو حملوں سے بچانا ہوگا۔

جی 20 ایک ایسا فورم ہے جس میں مغربی طاقتوں کے ساتھ روس، چین، بھارت، برازیل، سعودی عرب اور دیگر بڑی معیشتیں شامل ہیں، اس لیے مشترکہ اعلامیے کے لیے وسیع سیاسی ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔ اٹلانٹا اجلاس میں اتفاق رائے نہ بننے سے یہ واضح ہوا کہ عالمی اقتصادی تعاون کے باوجود سلامتی اور جنگ سے متعلق معاملات پر رکن ممالک کے مؤقف بدستور منقسم ہیں۔

اجلاس کے بعد سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا، تاہم کسی نئے باضابطہ امن معاہدے، جنگ بندی یا پابندیوں میں تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ آئندہ رابطوں میں بحیرہ اسود کی سلامتی، یوکرین میں توانائی تنصیبات کے تحفظ اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر مزید بات چیت متوقع ہے، لیکن ان تجاویز کی کامیابی متعلقہ فریقوں کی رضامندی سے مشروط رہے گی۔