مونٹریال: کینیڈا اور یورپی یونین نے دو روزہ سربراہی اجلاس کے بعد ایک نئے تعاون فریم ورک کا اعلان کیا ہے جس میں یوکرین کی مالی معاونت، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت اور وسیع تر اقتصادی و تزویراتی روابط کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی غیر یقینی صورت حال کے تناظر میں باہمی شراکت داری مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہا کہ عالمی ماحول زیادہ خطرناک اور منقسم ہو رہا ہے اور تجارت کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیے جانے سمیت مختلف رجحانات اتحادی ممالک کے لیے نئے چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کینیڈا اور یورپی یونین اپنے مشترکہ مفادات اور اقدار کے تحفظ کے لیے زیادہ منظم تعاون چاہتے ہیں۔
اعلان کا ایک نمایاں حصہ یوکرین کے لیے یورپی یونین کے 90 ارب یورو کے معاونتی قرض سے متعلق ہے۔ کینیڈا نے اس انتظام میں ابتدائی طور پر 500 ملین یورو کی شرکت کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین یوکرین کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی شراکت داروں کی تلاش میں ہے، اور کینیڈا کی شرکت اسی کوشش کا حصہ ہے۔ یہ رقم وسیع یورپی پیکیج میں کینیڈا کی ابتدائی شمولیت ہے، نہ کہ پورے قرض کی ذمہ داری۔
دونوں فریق اہم معدنیات کی سپلائی چین، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجی شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی آزاد تجارت کا معاہدہ موجود ہے، تاہم تازہ سربراہی اجلاس نے اقتصادی تعلقات کو سلامتی، ٹیکنالوجی اور صنعتی پالیسی کے ساتھ زیادہ قریب جوڑنے کا اشارہ دیا ہے۔ اہم معدنیات کی قابل اعتماد فراہمی بیٹریوں، جدید الیکٹرانکس، دفاعی صنعت اور توانائی کی منتقلی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر نے اجلاس سے قبل کہا تھا کہ جغرافیائی وجوہات کی بنا پر کینیڈا یورپی یونین کا مکمل رکن نہیں بن سکتا، لیکن بلاک اسے ممکن حد تک قریب لانا چاہتا ہے۔ یہ بیان رسمی رکنیت کی پیشکش نہیں بلکہ سیاسی اور اقتصادی قربت بڑھانے کے ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔
نئے فریم ورک کی کامیابی کا انحصار اب ان اعلانات کو عملی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مشترکہ ضابطہ جاتی اقدامات میں تبدیل کرنے پر ہوگا۔ فی الحال سربراہی اجلاس نے تعاون کی سمت اور چند ابتدائی مالی وعدے واضح کیے ہیں، جبکہ معدنیات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تفصیلی عملی نتائج آئندہ مذاکرات اور معاہدوں سے سامنے آئیں گے۔
