گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے ایسٹ بے کے قریب تقریباً 30 فٹ لمبی بلیو وہیل مردہ حالت میں پائی گئی ہے، جس کے بعد سمندری حیات کے تحفظ سے متعلق ماہرین نے اس کی ہلاکت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ایکسپریس اردو کی رپورٹس کے مطابق یہ وہیل گزشتہ دو روز سے گوادر کے سمندر میں مختلف مقامات پر دیکھی جا رہی تھی اور بدھ کو لہروں کے ساتھ ساحل کے قریب پہنچ گئی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے واقعے کو سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔ ابتدائی جائزے میں یہ امکان بیان کیا گیا ہے کہ وہیل نسبتاً کم گہرے پانی میں داخل ہو گئی ہو، جہاں اس کی سمت شناسی متاثر ہوئی اور وہ ساحل کی جانب بھٹک گئی۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی امکان ہے اور ہلاکت کی اصل وجہ ابھی طے نہیں ہوئی۔
بلیو وہیل دنیا کے سب سے بڑے ممالیہ جانوروں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کے ساحلی پانیوں میں پائی جانے والی بڑی وہیل انواع میں شامل ہے۔ کسی بڑی وہیل کا مردہ ملنا صرف ایک انفرادی جانور کی ہلاکت کا معاملہ نہیں بلکہ ساحلی ماحولیاتی نظام، ماہی گیری کے طریقوں، بحری آلودگی، جہاز رانی اور دیگر انسانی یا قدرتی عوامل کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ واقعے میں ان عوامل میں سے کسی ایک کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ماضی میں بھی بڑی وہیلز کے مردہ ملنے یا ساحل پر پھنسنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اپریل 2019 میں گوادر کے ساحل پر تقریباً 34 فٹ لمبی وہیل مردہ ملی تھی، مئی 2023 میں جیوانی کے بندری ساحل پر تقریباً 42 فٹ لمبی وہیل دریافت ہوئی، جبکہ نومبر 2023 میں پسنی کے قریب 27 فٹ لمبی برائیڈز وہیل مردہ پائی گئی تھی۔ جون 2024 میں بھی گوادر کے کنٹانی علاقے کے قریب ایک بڑی وہیل سمندر میں مردہ حالت میں دیکھی گئی تھی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ملک کے ساحلی علاقوں میں وہیل، ڈولفن اور دیگر سیٹیشین جانداروں کے مشاہدات اور ساحل پر پھنسنے کے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتا رہا ہے۔ ایسے ریکارڈ سے ماہرین کو انواع کی موجودگی، نقل و حرکت اور خطرات کے رجحانات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ گوادر کے حالیہ واقعے میں مزید جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہیل پہلے ہی سمندر میں مر چکی تھی یا ساحلی اور کم گہرے پانی میں پھنسنے کے بعد اس کی موت واقع ہوئی۔
ماہرین کے لیے اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ بلوچستان کا طویل ساحل کئی نایاب سمندری انواع کا مسکن ہے۔ ہلاکت کی وجہ کی سائنسی تصدیق مستقبل میں تحفظ کے اقدامات، ماہی گیری کے محفوظ طریقوں اور ساحلی نگرانی کی ترجیحات طے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

