نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں زہریلی فضائی آلودگی بعض مقامات پر عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ یومیہ حد سے 30 گنا سے زیادہ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ فضائی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو شہر کے کچھ حصوں میں PM2.5 ذرات کی مقدار 461 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی اوپر ریکارڈ کی گئی۔ یہ انتہائی باریک ذرات پھیپھڑوں سے گزر کر خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور طویل مدتی نمائش صحت کے سنگین خطرات سے منسلک ہے۔

فضائی معیار میں یہ شدید خرابی اس وقت سامنے آئی جب حکام نے تین روز قبل ٹریفک اور تعمیراتی سرگرمیوں پر اضافی پابندیاں نافذ کی تھیں۔ دہلی اور اس کے وسیع شہری علاقے کی آبادی تین کروڑ سے زیادہ ہے اور ہر سال سردیوں کے آغاز پر کم ہوا، دھند، گاڑیوں کے اخراج، صنعت اور زرعی باقیات جلانے سمیت متعدد عوامل مل کر سموگ کو شدید بنا دیتے ہیں۔

بھارتی وزارت ماحولیات کے اعداد کے مطابق دہلی کی سردیوں کی آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ تقریباً 23 فیصد، بایوماس جلانے بشمول فصلوں کی باقیات کا حصہ 20 فیصد اور صنعت و کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا حصہ تقریباً نو فیصد بتایا جاتا ہے۔ سب سے بڑا، 27 فیصد حصہ ایسے ثانوی ذرات کا ہے جو گاڑیوں، صنعت، بجلی گھروں اور بایوماس سے خارج گیسوں کے فضا میں کیمیائی تعامل کے نتیجے میں بنتے ہیں۔

آلودگی کے ماہرین کھادوں سے خارج ہونے والی امونیا کو بھی ثانوی ذرات بننے کے عمل میں ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔ دارالحکومت کے اطراف زرعی علاقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی کھادوں سے نکلنے والی امونیا دیگر آلودہ گیسوں کے ساتھ ردعمل کر کے باریک ذرات کی تشکیل بڑھا سکتی ہے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ اتوار کو دیوالی کے موقع پر آتش بازی سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے محدود مدت کے لیے کم اخراج والے نام نہاد گرین پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی ہے، تاہم ماضی میں پابندیوں کی خلاف ورزی بھی رپورٹ ہوتی رہی ہے۔ موجودہ اعداد ایک مخصوص وقت اور مانیٹرنگ مقامات کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں؛ شہر بھر کا فضائی معیار گھنٹوں اور علاقوں کے لحاظ سے بدل سکتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ سطحیں دہلی کے دیرینہ فضائی آلودگی بحران کی شدت اور صحت عامہ پر فوری دباؤ کو نمایاں کرتی ہیں۔