کراچی: پاکستان میں فضائی آلودگی اب صرف صحت اور ماحول کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ملکی معیشت، افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کاروباری اور ماحولیاتی ماہرین نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ خراب فضائی معیار سے پیدا ہونے والے مجموعی معاشی اثرات جی ڈی پی کے تقریباً 6.5 فیصد کے برابر ہو سکتے ہیں۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فضائی آلودگی کو پاکستان کے سنگین ترین صحت عامہ اور معاشی چیلنجز میں شمار کیا ہے۔ ادارے نے اسٹیٹ آف گلوبل ایئر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں فضائی آلودگی سے سالانہ 248 ہزار سے زیادہ قبل از وقت اموات منسلک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچے بھی اس بوجھ سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں اور فضائی آلودگی سے منسلک اموات میں ان کا حصہ 18 فیصد بتایا گیا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ گزشتہ دہائی میں مزید سنگین ہوا۔ قومی سطح پر باریک ذرات پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 2013 سے 2023 کے درمیان سات فیصد بڑھی جبکہ زمینی سطح پر اوزون کی مقدار 2010 سے 2020 کے دوران 16 فیصد بڑھی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 92 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارہ صحت کے 35 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کے عبوری ہدف سے زیادہ ہے، جبکہ پوری آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں قومی فضائی معیار کے مقررہ معیار سے تجاوز ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب ہوا بیماری، غیر حاضری، علاج کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل کے ذریعے معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ سرمایہ کار بھی شہروں کے معیار زندگی، ملازمین کی صحت اور کاروباری تسلسل کو فیصلہ سازی میں شامل کرتے ہیں، اس لیے طویل عرصے تک شدید آلودگی سرمایہ کاری کی کشش کو کم کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے تناظر میں فضائی معیار کو اضافی تشویش قرار دیا گیا، تاہم سرمایہ کاری میں تبدیلی کے کئی دیگر معاشی اور پالیسی عوامل بھی ہوتے ہیں۔
او آئی سی سی آئی اور ماہرین نے صنعتی اخراج کے قواعد پر سخت عمل درآمد، صاف ٹرانسپورٹ، بہتر ایندھن اور نجی شعبے کو کم آلودگی والی پیداوار کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق آلودگی کی روک تھام پر خرچ کو اضافی بوجھ کے بجائے معاشی سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے کیونکہ طویل مدت میں بیماری، پیداواری نقصان اور ماحولیاتی تباہی کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
