اسلام آباد: سوات کے گلیشیئر سے جڑے آبی حوض کے بارے میں ایک نئی موسمیاتی خطرات کی جانچ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صدی کے اختتام تک علاقے کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً اکتوبر سے جون کے عرصے میں۔ یہ جائزہ گرین کلائمیٹ فنڈ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے تیار کیا ہے اور اس میں گلیشیئر، پانی، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں کو درپیش طویل مدتی خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
جائزے کے مطابق موسم سرما کی بارش میں نسبتاً محدود تبدیلی متوقع ہے، تاہم بعض موسمیاتی منظرناموں میں موسم گرما کی بارش دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی تبدیلیاں شدید سیلاب، زمینی کٹاؤ اور ڈھلوانوں کے عدم استحکام کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔ گلیشیئر پگھلنے اور بہاؤ میں اضافے سے ابتدائی مدت میں پانی کی دستیابی بڑھ سکتی ہے، لیکن مسلسل گلیشیئر پسپائی کے نتیجے میں طویل مدت میں پانی کی مقدار کم ہونے کا خدشہ ہے۔
سوات بیسن میں دس ہزار سے زیادہ گلیشیئر بتائے گئے ہیں۔ اس وجہ سے تیز رفتار حدت صرف برفانی ذخائر تک محدود مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ سڑکوں، پلوں، آبپاشی نظام، ڈیموں، زرعی زمین اور پہاڑی و زیریں آبادیوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، چٹانیں گرنے اور برفانی تودوں جیسے واقعات کی شدت بڑھنے کے امکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسیسمنٹ میں گزشتہ 40 برس کے موسمی ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا اور مختلف عالمی موسمیاتی ماڈلز کو علاقائی مشاہدات کے ساتھ ملا کر 2035، 2055، 2085 اور 2100 کے لیے منظرنامے تیار کیے گئے۔ سوات کے علاوہ آرمینیا، آذربائیجان اور جارجیا کے کُرا، کرغزستان کے نارین اور تاجکستان سے منسلک پیانج واٹرشیڈز کا بھی مطالعہ کیا گیا۔ یہ چاروں مطالعات ’گلیشیئر ٹو فارمز‘ پروگرام کے ابتدائی پائلٹ جائزوں کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلنے اور دریائی بہاؤ کے موسمی اوقات تبدیل ہوں گے، جبکہ گرم موسم میں پانی کی طلب بھی بڑھے گی۔ تاریخی طور پر گلیشیئر پگھلاؤ خشک ادوار میں پانی کا ایک اہم سہارا فراہم کرتا رہا ہے، مگر گلیشیئر سکڑنے کے ساتھ یہ قدرتی بفر کمزور ہو سکتا ہے۔ اس سے ایسے وقت میں پانی کی قلت بڑھنے کا امکان ہے جب گرمی اور خشک سالی کے باعث طلب پہلے ہی زیادہ ہوگی۔
جائزہ اس امر پر بھی زور دیتا ہے کہ خطرات ناگزیر طور پر تباہ کن نتائج میں تبدیل نہیں ہوتے۔ بہتر واٹرشیڈ مینجمنٹ، خطرات کی نگرانی، ابتدائی وارننگ، مضبوط بنیادی ڈھانچہ، زرعی موافقت اور علاقائی تعاون کے ذریعے نقصان کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی میں گلیشیئر پسپائی اور بدلتے آبی بہاؤ کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہوگا۔

